ڈاکٹر وقار مسعود خان کی یاد میں: ان کی زندگی دیانت، فہم و فراست اور ایمان پر مبنی خدمت سے عبارت تھی
ڈاکٹر وقار مسعود خان کو ایک ایسی شخصیت کے طور پر یاد کیا گیا جو غیر متزلزل دیانت، فکری گہرائی اور ایمان سے وابستہ خدمت کا نمونہ تھے،ایک ماہرِ معاشیات اور سرکاری عہدیدار جن کی اخلاقی مضبوطی اور فکری بصیرت نے کئی دہائیوں تک قومی پالیسی سازی کی رہنمائی کی۔
ان کے ساتھیوں، ہم عصروں اور اہلِ خانہ نے انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس) اسلام آباد میں۱۴ نومبر ۲۰۲۵ منعقدہ تعزیتی ریفرنس کے دوران اُن کی زندگی کے اُن پہلوؤں پر روشنی ڈالی جو انکساری، دانائی اور قومی عزم سے مزین تھے۔
تقریب میں اظہارِ خیال کرنے والوں میں خالد رحمٰن، چیئرمین آئی پی ایس ؛ ایمبسڈر (ر) سید ابرار حسین، وائس چیئرمین آئی پی ایس ؛ پروفیسر ڈاکٹر عتیق الظفر خان، سابق ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز اینڈ ہیومینٹیز، رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی؛ ڈاکٹر سید طاہر حجازی، سابق وفاقی سیکریٹری اور رکن آئی پی ایس نیشنل ایڈوائزری کونسل (NAC)؛ ڈاکٹر طاہر منصوری، سابق ڈی جی شریعہ اکیڈمی، IIUI؛ سید ارتقاء احمد زیدی، سابق سول سرونٹ؛ وھاج السراج، سی ای او نیاٹیل (Nayatel) اور رکن آئی پی ایس بورڈ آف گورنرز؛ ڈاکٹر اشفاق حسن خان، پرنسپل اسکول آف ہیومینٹیز اینڈ سوشل سائنسز، نسٹ؛ نعمان اسحاق، کنسلٹنٹ UNDP؛ پروفیسر ڈاکٹر مختار احمد، سابق چیئرمین HEC اور رکن IPS NAC؛ بختیار احمد، سابق رکن FBR؛ ڈاکٹر اعجاز شفیع گلانی، بانی گیلپ پاکستان؛ مرزا حامد حسن، سابق وفاقی سیکریٹری پانی و بجلی اور رکن IPS NAC؛ اور ڈاکٹر حبیب الرحمن عاصم، چیئرپرسن اقبال چیئر بحریہ یونیورسٹی اور رکن قرآن ہاؤس شامل تھے۔
ان کے بیٹوں محمود مسعود خان، عبدالرحمٰن مسعود خان، اور بیٹی رافیہ حمیدہ نے بھی اپنے تاثرات اور یادیں بیان کیں۔

یہ نشست ایک ایسے انسان کے لیے دل آویز خراجِ عقیدت ثابت ہوئی جو اپنی دیانت، علم و دانش اور پاکستان کی معاشی و فکری ترقی سے پاسداری کے باعث وسیع پیمانے پر احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔
تقریب میں اس امر کو نمایاں کیا گیا کہ ڈاکٹر وقار کو عوامی خدمت میں غیرمعمولی مقام کس چیز نے عطا کیا۔ ایک ممتاز ماہرِ معاشیات، پالیسی ساز اور اسکالر کے طور پر انہوں نے پاکستان کے سب سے طویل عرصے تک سیکریٹری خزانہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور مختلف حکومتوں میں اصولی، معروضی اور قومی مفاد پر مبنی رویّوں کے باعث غیر معمولی اعتماد حاصل کیا۔ وہ گروہی مفادات اور ذاتی فائدے سے بالاتر رہتے ہوئے ہمہ وقت قومی مفاد کو ترجیح دیتے تھے۔
تاہم ان کی زندگی کا دائرہ محض پالیسی قیادت تک محدود نہ تھا۔ قرآن ہاؤس کے بانی اراکین میں شامل ہونے کے ناطے وہ قرآن سے گہری فکری و روحانی وابستگی رکھتے تھے اور ایسے شخص کے طور پر یاد کیے گئے جن کی انکساری، غور و فکر اور اخلاص گہری ایمانی وابستگی سے تشکیل پاتے تھے۔
ان کا تعلق آئی پی ایس سے 1980 کی دہائی میں شروع ہوا، جب ادارہ اپنی فکری شناخت تشکیل دے رہا تھا۔ پاکستان کی معاشی صورتِ حال پر آئی پی ایس کے ابتدائی کام میں اُن کی آرا نہایت قیمتی ثابت ہوئیں، ایک ایسا موضوع جو آج بھی پالیسی مباحثے کا حصہ ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ اہم مباحثوں مثلاً ہندوتوا کے موضوع پر مسلسل رہنمائی فراہم کرتے رہے، ابھرتے نظریاتی چیلنجز پر نقطۂ نظر دیتے رہے اور ایسے علمی مباحثوں کی معاونت کی جو تحقیق و فکر کو فروغ دیتے تھے۔ آئی پی ایس نیشنل ایڈوائزری کونسل میں اپنے دو ادوار (2002–2007 اور 2019–2025) کے دوران وہ ایک ایسی شخصيت سمجھے جاتے رہے جن کی فکری وضاحت اور تحقیقی بصیرت نے ادارے کی فکری جہت کو تقویت بخشی۔
مقررین نے مجموعی طور پر انہیں ایک ایسے انسان کے طور پر یاد کیا جو ذہانت کو انکساری کے ساتھ جوڑتے تھے، ایک ایسی شخصیت جو سیکھنے، سکھانے اور خدمت کے جذبے سے ہمیشہ سرشار رہی۔ بہت سے افراد نے ان کی روحانی وابستگی کا ذکر کیا، خصوصاً بڑھاپے میں قرآن حفظ کرنے کا عزم اور نوجوانوں کو قرآنی تعلیمات سکھانے کا جذبہ۔ دیگر احباب نے ادب اور شاعری سے ان کی ابتدائی دلچسپی، اخلاقی حکمرانی سے وابستگی، اور سرکاری خدمات کے دوران ان کی پیشہ ورانہ وقار کا ذکر کیا۔
تمام خراجِ تحسین میں ایک مشترکہ احساس نمایاں تھا کہ ڈاکٹر وقار مسعود خان نہ صرف پالیسی اور علمی میدان میں گہرا اثر چھوڑ گئے ہیں، بلکہ ایک ایسی میراث بھی چھوڑے جا رہے ہیں جو اخلاقی وضاحت، علمی خلوص اور ایمان پر مبنی خدمت سے عبارت ہے،ایک ایسی میراث جو آنے والی نسلوں کے لیے محرک رہے گی۔

