پاکستان کے معاشی رجحانات (اکتوبر–نومبر 2025)

پاکستان کے معاشی رجحانات (اکتوبر–نومبر 2025)

مالی سال 2025-26 کے ابتدائی چھ ماہ میں پاکستان کی معیشت ایک ملی جلی تصویر پیش کرتی ہے، جہاں ایک طرف استحکام کی کچھ علامات نظر آتی ہیں تو دوسری جانب دباؤ میں اضافہ بھی واضح ہے۔ مالی نظم و ضبط، مانیٹری پالیسی میں نسبتاً استحکام، اور صنعتی شعبے—خصوصاً گاڑیوں اور سیمنٹ کی صنعت—میں نمو نے معیشت کی بنیادی مضبوطی کی نشاندہی کی ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ ساتھ کئی اہم کمزوریاں بھی ابھر رہی ہیں۔
سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو زرعی شعبے کی کمزور کارکردگی ہے، جس کی شرحِ نمو مالی سال 2025 میں محض 0.56 فیصد رہی، جو غذائی تحفظ اور مہنگائی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ اسی دوران بیرونی شعبہ بھی دباؤ کا شکار ہے، جہاں درآمدات—خاص طور پر صارفین کی پائیدار اشیا اور غذائی اجناس—میں اضافے اور برآمدات میں کمی کے باعث جاری کھاتوں کا خسارہ بڑھ رہا ہے۔
مہنگائی کا دباؤ دوبارہ سر اٹھا رہا ہے جبکہ سیاسی غیر یقینی صورتحال بھی معاشی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے۔ یوں معیشت کا نسبتاً مثبت رجحان زرعی شعبے کی ساختی کمزوریوں اور بڑھتے ہوئے تجارتی عدم توازن کے باعث چیلنجز سے دوچار ہے، جس سے استحکام برقرار رکھنے کے لیے فوری اور ہدفی پالیسی توجہ ناگزیر ہو جاتی ہے۔

Download PDF

Share this post