جدید فکر کو وحی اور اسلام کی فکری روایت سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے: آئی پی ایس ورکشاپ
علم کو استعماری اثرات سے پاک کرنے کی کوششوں کا مقصد نہ تو جدیدیت کو مسترد کرنا ہے اور نہ ہی کسی ماضی کی طرف پلٹ جانا۔ بلکہ یہ ایک ایسی فکری کاوش ہے جس کا مقصد معاصر فکر کو وحیِ الٰہی کی بنیاد پر استوار کرتے ہوئے اسلامی زاویۂ نظر کی بازیافت ہے۔ اس علمی منصوبے سے وابستہ اہلِ علم اسلام کی بھرپور علمی روایت اور استدلالی میراث کی بنیاد پر عصری حالات و مباحث کو پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
ان خیالات کا اظہار معروف اسکالر اور یونیورسٹی آف ٹولیڈو، امریکہ، کے فلسفہ و مذہبی مطالعات پروگرام میں امام خطاب چیئر آف اسلامک اسٹڈیز کے سربراہ ڈاکٹر عویمر انجم نے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس)، اسلام آباد میں ۱۹ جنوری ۲۰۲۶ کو منعقدہ ایک ورکشاپ بعنوان” علم کی نوآبادیاتی تشکیل سے نجات: ایک مسلم تناظر“کےدوران کیا۔
ورکشاپ میں ردّ استعماریت کے تصور، اس کے تدریسی اور ادارہ جاتی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا، جس میں بالخصوص اعلیٰ تعلیم، مذہبی بیانیے اور حالیہ فکری نظریات کے ساتھ علمی تعامل پر توجہ مرکوز کی گئی۔ مختلف شعبہ جات اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے اساتذہ، محققین اور طلبہ نے اس تفصیلی مکالمے میں شرکت کی، جس میں اس امر پر غور کیا گیا کہ اسلام کے نظریہ علم کو مغرب کی مرکزیت پر مبنی سیکولر تصوّرات کے زیرِاثر آئے بغیر عصری چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے ۔
ڈاکٹر عویمر نے کہا کہ اگرچہ نوآبادیاتی رجحانات اب بھی عالمی علمی نظاموں پر اثرانداز ہو رہے ہیں، تاہم نوآبادیاتی نظام سے نجات کا مطلب موجودہ صورتِ حال سے لاتعلقی اختیار کرنا نہیں۔ ان کے مطابق مسلمان محض کسی قبل از نوآبادیاتی دور کی طرف “واپسی” نہیں کر سکتے، کیونکہ جدید اقدار، ادارے اور زبانیں اب عملی زندگی کی حقیقتوں میں گہرائی سے پیوست ہو چکی ہیں۔ اس کے بجائے انہوں نے امّت کی فکری روایت میں مضبوطی سے استوار رہ کر آگے بڑھنے اور اس کی فکری گہرائی اور اخلاقی ہم آہنگی کو جدید سوالات پر منطبق کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
مغرب میں رائج نوآبادیاتی تنقیدی اور مابعد جدیدنظریات پر تنقید کرتے ہوئے ڈاکٹر عویمر نے خبردار کیا کہ دین کی مطلق سچائی کے انکار سے فکری انتشار اور عدمِ ربط پیدا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اسلامی تناظر میں نوآبادیاتی نظام سے نجات کو وحی کی بنیاد سے وابستہ رہنا لازم ہے تاکہ اخلاقی حوالے سے وضاحت اور فکری تسلسل برقرار رہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام میں بنیادی تقابل طبقاتی، صنفی یا طاقت کے تصورات پر مبنی نہیں،بلکہ ایمان اور کفر کے اخلاقی امتیاز پر قائم ہے، جو ایک بالکل مختلف عالمی نقطۂ نظر تشکیل دیتا ہے۔
جدید جامعات جیسے’نوآبادیاتی‘ اداروں میں کام کرنے سے متعلق خدشات کے جواب میں مہمان مقرر نے کہا کہ کوئی بھی نظام مکمل طور پر خیر سے خالی نہیں ہوتا۔ انہوں نے اس ضمن میں سیرتِ نبویؐ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے قبل از اسلام عرب معاشرے کی زبان، رسوم اور اخلاقی اقدار کو توحید کا پیغام پہنچانے کے لیے استعمال کیا۔ فطرت،یعنی حق کی طرف انسانی میلان، ہر نظام کے اندر خود کو منوانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
روایت اور ترقی کے تعلق پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’روایت‘ کو اکثر ایک جدید تصور کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے تاکہ اسلامی فکر کو حاشیے پر دھکیلا جا سکے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ لامتناہی ترقی کا جدید مغربی بیانیہ خود ماحولیاتی بحرانوں اور ایٹمی تصادم جیسے وجودی خطرات کے باعث ہدفِ تنقید ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے زور دے کر کہا کہ مسلم فکر میں موجود تنوع کو اس کی نمایاں خوبی کے طور پر برتنا چاہیے اور کسی خاص موقف کے درست ہونے پر اصرار کی بجائے مسلم حلقوں کے درمیان اسلامی مکالمے کی بنیاد پر درپیش حالات میں درست لائحہ عمل تراشنے کے لیے استعمال کرنا چاہیے ۔
ورکشاپ میں مارکسزم اور فیمینزم جیسے مغربی تنقیدی نظریات کے ساتھ تعامل پر بھی غور کیا گیا۔ سیشن میں موجود اساتذہ کی علمی مداخلتوں کے جواب میں ڈاکٹر عویمر نے کہا کہ ان فریم ورکس کے ساتھ مکالمہ مفید ہو سکتا ہے، بشرطیکہ مسلمان وحی کی علمی بالادستی کو ترک نہ کریں۔ انہوں نے واضح حدود قائم رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی روایت تاریخی طور پر وسیع اور مکالماتی رہی ہے، تاہم اس نے ہمیشہ ان نظریات کو خارج کیا ہے جو اس کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہوں۔
تعلیمی اور مذہبی اداروں میں اصلاحات کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر انجم نے اس امر پر زور دیا کہ قرآن و سنت کو ثانوی حوالہ یا محض علامتی متون کے طور پر نہیں برتا جانا چاہیے۔ انہوں نے کلاسیکی علمی منہج کی طرف واپسی کی دعوت دی، جس میں دلائل کے ساتھ متعدد آرا پیش کی جاتی ہیں، تاکہ فکری گہرائی پیدا ہو اور مذہب کو فرقہ وارانہ مناظروں کے لیے استعمال کرنے کے بجائے علمی ارتقا کا ذریعہ بنایا جا سکے۔
اختتامی کلمات میں آئی پی ایس کے چیئرمین خالد رحمان نے کہا کہ نوآبادیاتی نظام سے نجات کے عمل کے لیے استعمار اور سامراج کے مقاصد، اہداف، ذرائع اور طریقۂ کار کو بطور جاری عمل گہرائی سے سمجھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی پی ایس دنیا بھر کے تعلیمی اداروں کے اشتراک سے اس موضوع پر بحث کو فروغ دیتا رہے گا اور نئے خیالات کی آبیاری کرتا رہے گا۔
