مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتِ حال کو معمول پر دکھانے کی بھارتی کوششوں کا توڑ پائیدار سفارت کاری سے ہی ممکن ہے: سیمینار
مقبوضہ کشمیر میں موجودہ صورتِ حال کو معمول پر دکھانے کی بھارت کی کوششوں کا مؤثر مقابلہ پائیدار سفارت کاری اور باخبر وکالت کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔ کشمیر بدستور بین الاقوامی قانونی نظام کے لیے ایک آزمائشی معاملہ ہے، بالخصوص حقِ خودارادیت کے بنیادی اصول کے تناظر میں۔ اس مؤقف کی بنیاد بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ قانونی نکات پر ہے، جن میں جغرافیائی قربت، آبادی کا تناسب، اور کشمیر کے پاکستان کے ساتھ تاریخی و ثقافتی روابط شامل ہیں۔
یہ بات انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس)، اسلام آباد میں ۳ فروری ۲۰۲۶ کو منعقدہ ایک انٹرایکٹو نشست کے دوران کہی گئی، جہاں اسکالرز، محققین اور یونیورسٹی طلبہ نے یومِ یکجہتی کشمیر کی مناسبت سے ”فروری ۰۵ اور کشمیر: یکجہتی سے آگے سوچ“کے مباحثے میں شرکت کی ۔ مقررین میں خالد رحمان، چیئرمین آئی پی ایس،سابق سفیر سید ابرار حسین، وائس چیئرمین آئی پی ایس، فرزانہ یعقوب، سیکرٹری آئی پی ایس ورکنگ گروپ آن کشمیر، ڈاکٹر ولید رسول، ایگزیکٹو ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف ڈائیلاگ، ڈیولپمنٹ اینڈ ڈپلومیٹک اسٹڈیز، اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے عمیر پرویز خان شامل تھے۔
مباحثے کے دوران تھنک ٹینکس اور تعلیمی فورمز کی اس ذمہ داری کو اجاگر کیا گیا کہ وہ کشمیر مسئلے کے متعدد پہلوؤں پر آگاہی، رہنمائی اور حساسیت پیدا کریں۔ مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ کشمیر پاکستان کے قومی بیانیے اور خارجہ پالیسی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، اور بدلتے ہوئے عالمی تناظر میں اس مسئلے کو زندہ رکھنے کے لیے مسلسل فکری و علمی مشغولیت ناگزیر ہے۔ نشست میں کشمیر اور فلسطین کے درمیان مماثلتوں کا بھی ذکر کیا گیا، تاہم اس نمایاں فرق کی نشاندہی کی گئی کہ عالمی سطح پر کشمیر کے لیے پاکستان کی صورت میں ایک مستقل اور مضبوط وکیل موجود ہے۔
شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ یکجہتی کے اظہار کے ساتھ ساتھ سفارتی، معاشی اور سماجی سطحوں پر ٹھوس اور مسلسل اقدامات بھی ضروری ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے پر موجود قدیم ترین حل طلب تنازعات میں شامل ہونے کے باعث پاکستان نے بارہا کشمیر کا معاملہ اٹھایا ہے تاکہ عالمی برادری کو اس کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کرائی جا سکے۔ اسی طرح مقررین نے ان ادارہ جاتی پالیسیوں کی طرف بھی اشارہ کیا جن کے نتیجے میں مسلم اکثریتی آبادی کے باوجود اہم انتظامی عہدوں پر نمائندگی میں تبدیلیاں لائی گئی ہیں۔ ان اقدامات کو طویل المدتی سیاسی اور آبادیاتی تبدیلیوں کی ایک وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا گیا، جو مقبوضہ علاقے میں طرزِ حکمرانی اور نمائندگی پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔
شرکاء نے اس امر پر بھی زور دیا کہ میڈیا محض بیانیے پھیلانے کا ذریعہ نہیں بلکہ حقائق سامنے لانے کا بھی اہم وسیلہ ہے۔ لہٰذا ذمہ دار میڈیا کوریج میں تنازع کے انسانی پہلو، بالخصوص جبری گمشدگیوں کے باعث متاثر ہونے والی خواتین یعنی ” نصف بیواؤں“کی اذیت ناک صورتحال کو مستقل طور پر اجاگر کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح یہ تجویز بھی دی گئی کہ علمی سرگرمیوں کو ادارہ جاتی شکل دی جائے، کیونکہ ایسی کاوشیں کشمیری آوازوں کو تقویت دینے اور عالمی سطح پر ان کا مقدمہ مؤثر انداز میں پیش کرنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔
اختتام پر خالد رحمان نے شرکاء کی بھرپور شرکت اور بامعنی سوالات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ نوجوانوں میں نعروں اور جذباتی اپیلوں سے ہٹ کر کشمیر کو سمجھنے کی بڑھتی ہوئی سنجیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے ایک باخبر نئی نسل کی تیاری کی اہمیت پر بھی زور دیا جو ڈیٹا پر مبنی پلیٹ فارمز سے مؤثر طور پر جڑ سکے اور بدلتی ہوئی عالمی حقیقتوں اور ابھرتے چیلنجز کے مطابق خود کو ہم آہنگ کر سکے۔

