بدلتے منظر نامے  میں تہذیبوں کے عروج و زوال کو سمجھنے کے لیے تنقیدی فہم ناگزیر ہے: آئی پی ایس مباحثہ

بدلتے منظر نامے  میں تہذیبوں کے عروج و زوال کو سمجھنے کے لیے تنقیدی فہم ناگزیر ہے: آئی پی ایس مباحثہ

مغربی تہذیب کا دیگر تہذیبوں کے مقابلے میں عروج ایک ایسی نئی تہذیب کا ظہور تھا جس نے دنیا کو نمایاں ثقافتی، سائنسی اور سیاسی تبدیلیوں سے  روشناس کروایا۔ جدیدیت کے حوالے سے جاری مباحث کو محض معاشی بنیادوں پر  نہیں جانچا جا سکتا۔ انہیں توازن، اقدار اور فکری ذمہ داری جیسے گہرے اخلاقی اور تہذیبی سوالات کا احاطہ بھی کرنا چاہیے۔

یہ نکات انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس) میں ۱۲ فروری ۲۰۲۶کو منعقدہ ایک مذاکرے بعنوان ’’تہذیبوں کا عروج و زوال: عصرِ حاضر کا تناظر‘‘ کے دوران سامنے آئے۔ یہ نشست سید سردار علی کے جدیدیت، اسلام اور پاکستان سے متعلق مقالے کے حوالے سے ترتیب دی گئی تھی۔ اجلاس میں اہلِ علم، ماہرین اور طلبہ نے مغرب کے عروج کے تاریخی سفر اور مسلم دنیا کو درپیش چیلنجز پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔

اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے پاکستان کریسنٹ فاؤنڈیشن کے بانی و چیئرمین سردار علی نے مغرب کی سبک رفتار ترقی کے عمل کی وضاحت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 1800 تک بیشتر تہذیبیں پیداواری صلاحیت کے اعتبار سے قریب قریب ایک ہی سطح پر تھیں۔ اس کے بعد مغربی معاشروں میں پیداوار اور قوت میں غیر معمولی اور تیز رفتار اضافہ ہوا، جس سے دیگر معاشروں کے مقابلے میں ایک بے مثال فرق پیدا ہوگیا۔ ان کے مطابق یہ تبدیلی تین بیک وقت عمل میں آنے والی جدیدیتوں کا نتیجہ تھی: فلسفیانہ عقلیت کی جانب ثقافتی رجحان، سائنسی طریقِ کار اور استقرائی منطق کا ادارہ جاتی فروغ، اور قومی ریاستی نظام کے ذریعے سیاسی اقتدار کا ارتکاز۔

سردار علی نے استدلال کیا کہ مغرب میں جمہوریت صنعتی اور مادی تبدیلیوں کا نتیجہ تھی، نہ کہ ان کی بنیادی علت۔ ان کے بقول مسلم تہذیب کا مطلق زوال نہیں ہوا بلکہ وہ نئے پیراڈائم کو اختیار اور داخلی طور پر جذب کرنے میں ناکام رہی، حالانکہ وہ اپنی سائنسی پیش رفت کو اس مقصد کے لیے بروئے کار لا سکتی تھی۔ انہوں نے ماضی کی محض یادوں پر انحصار کرنے کے بجائے مغربی برتری کے حقیقی اسباب کی معروضی نشاندہی پر زور دیا۔

شرکا نے اہم سوالات اٹھائے اور بصیرت افروز آرا پیش کیں۔

ناصر حفیظ نے جنگ، تصادم اور تباہی کو مغربی تبدیلی کے محرکات کے طور پر نمایاں کیا۔ پروفیسر جلیل عالی نے مسلم فکری روایت میں استقرائی استدلال کے تسلسل کی نشاندہی کرتے ہوئے علامہ محمد اقبال جیسے مفکرین کا حوالہ دیا اور کہا کہ تجربی تحقیق یورپ کے سائنسی انقلاب سے پہلے بھی موجود تھی۔

سرمد علوی نے کہا کہ ابتدائی جدید سائنس دان، مثلاً آئزک نیوٹن، لازماً مذہب کے مخالف نہیں تھے، تاہم ادارہ جاتی تبدیلیوں نے بتدریج یورپ میں مذہبی اختیار کو محدود کر دیا۔ ڈاکٹر نذیر احمد وید نے اس امر پر زور دیا کہ تہذیبوں کا عروج و زوال ان کی اقدار کی مضبوطی سے وابستہ ہوتا ہے، اور اخلاقی ہم آہنگی سے عاری مادی ترقی سماجی انتشار کا سبب بن سکتی ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر سفیر اختر نے کہا کہ تہذیبیں تاریخی طور پر ایک دوسرے سے سیکھتی رہی ہیں، اور ابتدائی اسلامی نظمِ حکومت نے ایرانی سلطنت سے دیوان جیسے انتظامی نظام اخذ کیے۔ ڈاکٹر تیمیہ صبیحہ نے استدلال کیا کہ ’’مشرق بمقابلہ مغرب‘‘ کی تقسیم خود ایک نوآبادیاتی تشکیل ہے، اور اصل بحث مختلف الہٰیاتی و فلسفیانہ سانچوں کے درمیان فرق کی ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹر یاسر ریاض نے محض پیداواری اشاریوں پر انحصار کے حوالے سے خبردار کیا کہ مغرب مرکزیت پر مبنی فریم ورک قدیم مشرقی معیشتوں کے حجم اور پیچیدگی کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ مولانا ڈاکٹر محمد غیاث نے کہا کہ عقیدۂ ختمِ نبوت مسلمانوں پر یہ فکری ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ دنیاوی معاملات کی تنظیم میں عقل اور سائنسی تحقیق کو بروئے کار لائیں۔

ڈاکٹر صہیب ظفر نے ابنِ سینا اور الرازی کی تصانیف میں موجود تجربی روایت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سائنسی سفر سترہویں صدی سے کئی صدیاں پہلے شروع ہو چکا تھا۔ ان کے مطابق تہذیبی کامیابی کو صرف معاشی پیداوار کی بنیاد پر جانچنا اخلاقی اور مابعد الطبیعیاتی جہات کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔

اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان کے شریعت اپیلیٹ بینچ کے ایڈہاک جج پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود نے کہا کہ آج بہت سے مسلم معاشرے انحصاری کیفیت میں مبتلا ہیں، جس سے علم کے حوالے سے دفاعی رویہ جنم لیتا ہے۔ انہوں نے علم الکلام اور فلسفے کے تاریخی تناؤ کا حوالہ دیتے ہوئے امام غزالی اور ابنِ رشد سے منسوب مباحث کا ذکر کیا اور کہا کہ فقہی و کلامی بالادستی کو فلسفیانہ تحقیق پر ترجیح دینے کے طویل المدتی فکری اثرات مرتب ہوئے ہو سکتے ہیں۔

نشست کے شریک صدر ڈاکٹر اعجاز شفیع گیلانی، بانی و چیئرمین گیلپ پاکستان، نے جدیدیت کو نئے پیداواری عمل کے بیج کے طور پر پیش کیے جانے کا خلاصہ بیان کیا، تاہم خبردار کیا کہ مغربی جدیدیت کے ’’خالص‘‘ تعاقب نے ماحولیاتی بگاڑ اور آبادیاتی چیلنجز سمیت متعدد عدم توازن پیدا کیے ہیں۔

اختتامی کلمات میں چیئرمین آئی پی ایس خالد رحمان نے کہا کہ یہ نشست تہذیبی احیا، علم اور معاصر عالمی چیلنجز سے متعلق آئی پی ایس کی جاری فکری کاوشوں کا حصہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس نوع کی بحثیں تھنک ٹینک کے مکالمے کا مستقل جزو ہونی چاہئیں، اور یہ کہ نشست میں سامنے آنے والی آرا کا تجزیہ اور امتزاج موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کی راہوں کی نشاندہی میں معاون ہوگا۔

مذاکرے کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ تہذیبوں کے عروج و زوال کو سمجھنے کے لیے سنجیدہ تاریخی تحقیق، فکری احتساب، اور ایسا متوازن فریم ورک درکار ہے جو مادی ترقی کو اسلام کی اخلاقی اور روحانی جہات کے ساتھ ہم آہنگ کرے۔

Share this post