پاکستان بدلتے ہوئے عالمی سلامتی نظام میں ایک اہم مڈل پاور کے طور پر ابھر رہا ہے: آئی پی ایس راؤنڈ ٹیبل
انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز)آئی پی ایس (میں منعقدہ ایک راؤنڈ ٹیبل مباحثے میں ماہرین نے کہا کہ بدلتے ہوئے عالمی سلامتی نظام میں پاکستان ایک اہم مڈل پاور کے طور پر ابھر رہا ہے، جو علاقائی اور عالمی سطح پر تعمیری کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
15 اپریل کو منعقدہ مباحثے میں سابق سیکریٹری خارجہ سفیر (ر) اعزاز احمد چوہدری نے کلیدی خطاب کیا، جبکہ دیگر مقررین میں چیئرمین آئی پی ایس خالد رحمان، نائب چیئرمین سفیر (ر) سید ابرار حسین، سلمان جاوید، بریگیڈیئر (ر) سعید نذیر، بریگیڈیئر (ر) تغرال یامین، ڈاکٹر ولید رسول، ڈاکٹر سائرہ نواز اور ارحمہ صدیقہ شامل تھے۔
شرکا نے امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور غیر یقینی سفارتی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد مذاکرات نے عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت اور متوازن کردار کو اجاگر کیا ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ کوئی باضابطہ معاہدہ سامنے نہیں آیا، تاہم پاکستان نے ایک معتبر سہولت کار کے طور پر اپنی حیثیت مضبوط کی ہے۔
ماہرین نے کہا کہ ایران کے ساتھ امریکا کا موجودہ تعامل واشنگٹن میں داخلی اور خارجی دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔ سیاسی عوامل، انتخابی ماحول اور پالیسی حدود امریکی ردعمل پر اثر انداز ہو رہے ہیں، جبکہ عسکری ادارہ جاتی رکاوٹیں براہ راست جنگ کے امکانات کو محدود کر رہی ہیں۔
مباحثے میں کہا گیا کہ ایران کے جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز کی تزویراتی اہمیت اور اقتصادی پابندیاں اب بھی بنیادی تنازعات میں شامل ہیں۔ ایران پابندیوں کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی بحالی اور معاوضے کے مطالبات پر قائم ہے، جس سے مذاکراتی عمل پیچیدہ ہو گیا ہے۔
شرکا کے مطابق آبنائے ہرمز اس وقت خطے میں ایک اہم اسٹریٹجک عنصر بن چکی ہے، جو ایک جانب بازدار قوت جبکہ دوسری جانب ممکنہ تصادم کا مرکز بن سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کشیدگی بڑھانے والی حکمت عملیاں کسی بڑے بحران کو جنم دے سکتی ہیں، خصوصاً اگر بڑی عالمی طاقتیں براہ راست شامل ہو جائیں۔
ماہرین نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں اتحادوں اور ترجیحات کی نئی صف بندیاں سامنے آ رہی ہیں، جبکہ کئی ریاستیں ابھرتے خطرات اور مواقع کے پیش نظر اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کر رہی ہیں۔
مباحثے میں آئندہ صورتحال کے تین ممکنہ منظرنامے بھی پیش کیے گئے، جن میں کامیاب مذاکراتی معاہدہ، طویل بالواسطہ محاذ آرائی، یا محدود رعایتوں پر مبنی درمیانی راستہ شامل ہے۔ ماہرین کے مطابق آخری امکان سب سے زیادہ حقیقت پسندانہ دکھائی دیتا ہے۔
اپنے اختتامی کلمات میں خالد رحمان نے کہا کہ اسلام آباد مذاکرات کے بعد پاکستان مثبت سمت میں گامزن ہے اور اسے اپنی مڈل پاور حیثیت کو بروئے کار لاتے ہوئے علاقائی و عالمی سطح پر تعمیری کردار جاری رکھنا چاہیے۔
