غزہ تنازع نے عالمی نظام کی کمزوریوں کو نمایاں اور علاقائی حرکیات کو تبدیل کیا: آئی پی ایس سیمینار

غزہ تنازع نے عالمی نظام کی کمزوریوں کو نمایاں اور علاقائی حرکیات کو تبدیل کیا: آئی پی ایس سیمینار

 غزہ تنازع کے اثرات میدانِ جنگ سے کہیں آگے تک پھیل چکے ہیں، جنہوں نے بین الاقوامی اداروں کی ساکھ، بین الاقوامی قانون کے اطلاق، علاقائی سلامتی کی حرکیات اور عالمی رائے عامہ پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ تنازع نے موجودہ جغرافیائی سیاسی صف بندیوں کو بھی چیلنج کیا ہے اور عالمی نظام کے مستقبل اور اس میں فلسطین، پاکستان اور مسلم دنیا کے کردار کے حوالے سے نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس)، اسلام آباد کے زیر اہتمام ۶ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو منعقدہ سیمینار میں کیا گیا۔ “میدانِ جنگ سے آگے: غزہ نے کیا بدلا؟” کے عنوان سے ہونے والے سیمینار میں غزہ تنازع کے انسانی، عسکری، علاقائی اور بین الاقوامی اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

سیمینار کے مقررین میں ڈاکٹر خرم اقبال، ایسوسی ایٹ پروفیسر، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز، قائداعظم یونیورسٹی؛ بریگیڈیئر (ر) سید نذیر، دفاعی و سلامتی تجزیہ کار؛ ڈاکٹر سلمیٰ ملک، ایسوسی ایٹ پروفیسر، ڈیفنس اینڈ اسٹریٹجک اسٹڈیز، قائداعظم یونیورسٹی؛ اور ڈاکٹر زرنی، انسانی حقوق کے کارکن شامل تھے۔ اجلاس کی صدارت آئی پی ایس کے چیئرمین خالد رحمان نے کی، جبکہ وائس چیئرمین سفیر (ر) سید ابرار حسین بھی اجلاس میں شریک تھے۔

افتتاحی کلمات میں سفیر (ر) سید ابرار حسین نے کہا کہ غزہ تنازع کے اثرات کو صرف اس خطے تک محدود کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انہوں نے تین اہم تبدیلیوں کی نشاندہی کی: بین الاقوامی قانون اور اداروں کی ساکھ میں کمی، علاقائی و عالمی جغرافیائی سیاسی حرکیات میں تبدیلی اور مسئلہ فلسطین کی دوبارہ مرکزی حیثیت۔ ان کے مطابق بین الاقوامی قانون کے منتخب اطلاق نے بالخصوص عالمی جنوب میں عالمی نظام کے بارے میں بداعتمادی کو بڑھایا ہے۔

ڈاکٹر خرم اقبال نے تنازع سے سامنے آنے والی تین اہم پیش رفتوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ سمیت مغربی ممالک میں اسرائیل کے لیے طویل عرصے سے موجود دو جماعتی سیاسی حمایت کو بدلتی ہوئی عوامی رائے کے باعث دباؤ کا سامنا ہے۔ انہوں نے ابراہیمی معاہدے سے وابستہ عمل پر تنازع کے اثرات اور مغربی ایشیا اور جنوبی ایشیا کی سلامتی کی حرکیات میں پیدا ہونے والے نئے روابط کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق اسرائیل اور بھارت کے بڑھتے ہوئے تعلقات پاکستان کے لیے بھی اہم مضمرات رکھتے ہیں۔

بریگیڈیئر (ر) سید نذیر نے غزہ کی صورتحال کا انسانی، عسکری، علاقائی اور بین الاقوامی تناظر میں جائزہ لیا۔ انہوں نے غزہ میں تباہی، تعمیرِ نو کے سیاسی و سلامتی سے متعلق چیلنجز، فلسطینی سیاسی تقسیم اور امن عمل کی غیر یقینی صورتحال پر گفتگو کی۔ ان کے مطابق تنازع نے اسرائیل کی عسکری ناقابلِ تسخیر ہونے کے تاثر کو متاثر کیا ہے اور ظاہر کیا ہے کہ سیاسی و سفارتی مقاصد کے بغیر عسکری طاقت کی اپنی حدود ہوتی ہیں۔

غزہ تنازع کے قواعد پر مبنی عالمی نظام پر اثرات پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر سلمیٰ ملک نے کہا کہ بحران نے بین الاقوامی قانون کے منتخب اطلاق اور عالمی اداروں کی ساکھ سے متعلق اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے جنگ بندی اور انسانی ہمدردی کے اصولوں کی بار بار خلاف ورزیوں کو موجودہ نظام کی کمزوریوں کی علامت قرار دیا اور پاکستان کے لیے حکمرانی، سماجی ہم آہنگی اور عالمی فورمز پر سفارتی کردار کے حوالے سے اس کے مضمرات پر روشنی ڈالی۔

آن لائن شرکت کرتے ہوئے ڈاکٹر زرنی نے کہا کہ غزہ نے عالمی سیاسی نظام کے ازسرنو جائزے کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے فلسطین کے بارے میں عالمی تصورات کی تشکیل میں سول سوسائٹی کے بڑھتے ہوئے کردار اور بین الاقوامی قانون کے اطلاق میں موجود تضادات کی نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کے تجربے نے اسرائیل کے عسکری و سیاسی تاثر سے متعلق روایتی تصورات کو بھی چیلنج کیا ہے۔

اختتامی کلمات میں خالد رحمان نے کہا کہ پیچیدہ بین الاقوامی مسائل کا فوری یا مختصر راستوں سے حل ممکن نہیں، بلکہ ان کے لیے مسلسل اور مرحلہ وار کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے غزہ تنازع کو عالمی نظام میں رونما ہونے والی وسیع تر تبدیلیوں سے جوڑتے ہوئے زور دیا کہ موجودہ حالات کو تاریخی اور بین الاقوامی تناظر میں دیکھنے اور فوری حل کے بجائے طویل المدتی سوچ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

Share this post