مصنوعی ذہانت کے نئے دور میں ذمہ دارانہ حکمرانی اور انسانی نگرانی ناگزیر: ماہرین
ماہرین نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے تیزی سے بڑھتے استعمال کے پیش نظر پاکستان کو اس ٹیکنالوجی کے فوائد سے استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ اخلاقیات، تحفظ، حکمرانی اور جواب دہی کے تقاضوں کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال، انسانی نگرانی، ادارہ جاتی تیاری اور مؤثر پالیسی تحفظات کے بغیر اس ٹیکنالوجی سے وابستہ مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا مشکل ہوگا۔
ان خیالات کا اظہار انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس)، اسلام آباد کے زیر اہتمام یکم اکتوبر ۲۰۲۶ءکو منعقدہ سیمینار میں کیا گیا۔ ” مصنوعی ذہانت میں تبدیلی کے نئے دور سے ہم آہنگی: مواقع، خطرات اور پالیسی کے خطوط “کے عنوان سے منعقدہ سیمینار میں مصنوعی ذہانت کی حکمرانی اور اخلاقیات کے ماہر اظہر ضیاء الرحٰمن، سینٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے سینئر ریسرچ ایسوسی ایٹ فیضان فخر اور بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر علینہ کرن نے اظہارِ خیال کیا، جبکہ آئی پی ایس کے چیئرمین خالد رحمان نے نشست کی صدارت کی۔
کلیدی خطاب میں اظہر ضیاء الرحٰمن نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی جانب منتقلی انفرادی سطح سے لے کر تنظیموں، ریاستوں اور بین الاقوامی اداروں تک مختلف سطحوں پر اقدامات کی متقاضی ہے۔ انہوں نے معیارات اور رہنما اصول وضع کرنے، اے آئی نظاموں میں اخلاقی پہلو شامل کرنے، خطرات اور اخلاقی تیاری کا جائزہ لینے، نظاموں کے آڈٹ اور قابلِ اعتماد کارکردگی کی جانچ اور خطرے کی نوعیت کے مطابق ضابطہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی حکمرانی کو محض تکنیکی معاملہ نہیں بلکہ حکمرانی کے ایک اہم مسئلے کے طور پر دیکھنا چاہیے، جس کے لیے ڈیٹا کی حکمرانی، تنظیمی ذمہ داری اور ادارہ جاتی نگرانی پر توجہ ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اے آئی موجودہ پیشوں میں تبدیلی کے ساتھ نئے پیشہ ورانہ شعبوں کے مواقع بھی پیدا کر رہی ہے، جن میں نفاذ، تبدیلی کا انتظام، حکمرانی، آڈٹ اور اخلاقیات شامل ہیں۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے اخلاقی تناظر میں خلافت، امانت، عدل، میزان، علم، تصدیق اور جواب دہی جیسے اسلامی تصورات کا بھی ذکر کیا۔
اے آئی کے تحفظ سے متعلق گفتگو میں فیضان فخر نے اس سے وابستہ خطرات کو مقاصد سے انحراف، غلط استعمال اور ساختی خطرات کے تین بنیادی زاویوں سے دیکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی نظاموں کا جائزہ صرف محدود آزمائشی ماحول تک نہیں ہونا چاہیے بلکہ حقیقی حالات میں ان کے استعمال کے دوران بھی مسلسل جانچ ضروری ہے۔ انہوں نے جدید مصنوعی ذہانت سے وابستہ خطرات سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی طریقہ ہائے کار وضع کرنے کی ضرورت بھی اجاگر کی۔
ڈاکٹر علینہ کرن نے مصنوعی ذہانت کو محض تکنیکی پیش رفت کے بجائے تنظیمی اور سماجی تبدیلی قرار دیا۔ انہوں نے تعلیم، صحت، عوامی انتظام اور جامعات میں اس کے ممکنہ فوائد کا ذکر کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر نفاذ سے قبل محدود پیمانے پر آزمائش، نگرانی اور نتائج کی جانچ پر زور دیا۔ انہوں نے غلط معلومات، غیر درست نتائج، جانبداری، رازداری، ڈیٹا کے تحفظ، سائبر سکیورٹی، دانشورانہ ملکیت، افرادی قوت پر اثرات اور اے آئی پر حد سے زیادہ انحصار کو اہم خدشات قرار دیا۔ ان کے مطابق جامعات اور دیگر اداروں کو اے آئی کے استعمال، ڈیٹا کے تحفظ، تعلیمی دیانت، انسانی نگرانی اور جواب دہی کے حوالے سے واضح پالیسیاں وضع کرنی چاہئیں۔
اختتامی کلمات میں خالد رحمان نے کہا کہ پاکستان مصنوعی ذہانت کے استعمال میں نمایاں سرگرمی رکھتا ہے، تاہم اس ٹیکنالوجی کی تخلیق کے میدان میں نسبتاً پیچھے ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو اس تبدیلی سے لاتعلق رہنے کے بجائے مؤثر طور پر اس عمل میں شریک ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق تکنیکی ترقی کو اقدار، اخلاقیات اور جواب دہی سے منسلک رکھنا ضروری ہے، کیونکہ اے آئی پر حد سے زیادہ انحصار انسانی سوچ، تجزیاتی صلاحیت اور تنقیدی شعور کو کمزور کر سکتا ہے۔
