مؤثر تنازعات کے حل کے لیے قابلِ رسائی اور ثقافتی اقدار سے ہم آہنگ اے ڈی آرنظام ناگزیر: ماہرین

مؤثر تنازعات کے حل کے لیے قابلِ رسائی اور ثقافتی اقدار سے ہم آہنگ اے ڈی آرنظام ناگزیر: ماہرین

ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان میں تنازعات کے متبادل حل)اے ڈی آر(کے مؤثر نظام کے لیے محض قانون سازی کافی نہیں، بلکہ ایسے ثالثی نظام کی تشکیل ضروری ہے جو عوام کے لیے قابلِ رسائی، قابلِ اعتماد اور ملکی معاشرتی و ثقافتی اقدار سے ہم آہنگ ہو۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے ادارہ جاتی، تعلیمی اور انتظامی خامیوں کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ ثالثی کی اسلامی اور مقامی روایات سے استفادہ کرنے پر زور دیا۔

ان خیالات کا اظہار انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس) اور اسکول آف ایڈووکیسی اینڈ ریسرچ (ایس اے آر) کے اشتراک سے ۲۹ستمبر ٢٠٢٦  ءکومنعقدہ سیمینار میں کیا گیا۔”قانونی فریم ورک سے آگے: متبادل تنازعاتی تصفیہ، ثالثی اور حل طلب سوالات “کے عنوان سے ہونے والے سیمینار میں وفاقی شرعی عدالت کے جج جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور، آئی پی ایس کے چیئرمین خالد رحمان، آئی پی ایس کے وائس چیئرمین سفیر (ر) سید ابرار حسین، ایس اے آر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شجاع اللہ اور آئی پی ایس ایسوسی ایٹ سید عبداللہ انور نے اظہارِ خیال کیا۔ امن کونسل کی ڈائریکٹر مصباح شاہد نے سیمینار کی نظامت کی۔

افتتاحی کلمات میں سید ابرار حسین نے کہا کہ صرف قانون سازی سے نہ تو تنازعات کا مؤثر حل ممکن ہے اور نہ ہی عوام کا اعتماد حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے منظور شدہ اے ڈی آر مراکز کے قیام، شفاف طریقہ کار، طے شدہ معاملات پر فیصلوں کے مؤثر نفاذ، قانونی تعلیم میں اے ڈی آرکی شمولیت اور معاشرتی و ادارہ جاتی سطح پر وسیع تر شرکت کی ضرورت پر زور دیا۔

کلیدی خطاب میں جسٹس ڈاکٹر محمد انور نے اے ڈی آرکو رسمی عدالتی نظام کے محض متبادل کے بجائے تنازعات کے لیے موزوں اور قابلِ قبول حل فراہم کرنے والے جامع نظام کے طور پر فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اعتماد سازی، غیر جانب داری اور اخلاقی طرزِ عمل کو مؤثر ثالثی کے لیے بنیادی قرار دیتے ہوئے مصالحت کی اسلامی بنیادوں کو اجاگر کیا۔

جسٹس ڈاکٹر محمد انور نے ثالثی کو مناسب تربیت اور منظوری کے ذریعے ادارہ جاتی شکل دینے اور خصوصاً خاندانی تنازعات کے حل میں خواتین کی شرکت بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے تھنک ٹینکس اور اے ڈی آر سے متعلق اداروں کے مابین تعاون بڑھانے کی تجویز بھی دی تاکہ مقامی حالات سے ہم آہنگ عملی ماڈلز تیار کیے جا سکیں۔

شجاع اللہ نے پاکستان میں اے ڈی آ کے قانونی ڈھانچے کا جائزہ پیش کرتے ہوئے ثالثی، گفت و شنید اور مصالحت سمیت مختلف طریقہ ہائے کار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ثالثی ایکٹ ۱۹۴۰، اے ڈی آر ایکٹ ۲۰۱۷ اور پاکستان کے بین الاقوامی معاہدوں کا حوالہ دیتے ہوئے تنازعات کے حل کی اسلامی روایت کے تاریخی پس منظر کو بھی اجاگر کیا۔ ان کے مطابق ملک میں طویل اور مہنگے عدالتی عمل کے باعث اے ڈی آر کی اہمیت بڑھ گئی ہے، بالخصوص ان معاملات میں جہاں فریقین باہمی رضامندی سے قابلِ قبول تصفیے تک پہنچ سکتے ہیں۔

سید عبداللہ انور نے عملی نقطۂ نظر پیش کرتے ہوئے عدالتی مداخلت، بکھری ہوئی قانون سازی، طریقہ کار میں ابہام، منظور شدہ ماہرین کی کمی اور محدود آگاہی کو اے ڈی آر کی راہ میں اہم رکاوٹیں قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مؤثر اے ڈی آر سرمایہ کاروں کے اعتماد اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے بھی اہم ہے، جبکہ صنفی حساسیت اور شریعت سے ہم آہنگ ثالثی پر بھی توجہ ضروری ہے۔

خالد رحمان نے کہا کہ پاکستان میں تنازعات کے حل کے لیے پہلے سے موجود سماجی طریقوں کو سمجھنا ضروری ہے، جو اعتماد، برادری کے باہمی تعلقات اور غیر رسمی اداروں پر استوار ہیں۔ انہوں نے بازاروں، محلوں، خاندانوں اور مساجد کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ اے ڈی آر کو ادارہ جاتی شکل دیتے وقت مقامی اخلاقی اور سماجی اقدار سے اس کا تعلق برقرار رہنا چاہیے۔ انہوں نے تنازعات کے حل کے ساتھ ساتھ ان کے بنیادی اسباب سے نمٹنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

سیمینار کے موقع پر”پاکستان میں ثالثی کے مستقبل کی تشکیل “کے موضوع پر پینل مذاکرہ بھی ہوا، جس میں ثالثی کی تعلیم، پیشہ ورانہ منظوری، عدالت سے منسلک ثالثی، وکلا اور دیگر پیشہ ور افراد کے کردار اور اے ڈی آر کو اشرافیہ تک محدود رکھنے سے گریز پر گفتگو کی گئی۔

پینل میں انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن پاکستان کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر حافظ عزیز الرحمن، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی فیکلٹی آف شریعہ اینڈ لا کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر غزالہ غالب خان، سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ قیصر امام، اے بی ایس اینڈ کو اسلام آباد کے پارٹنر عثمان جیالنی اور ایس اے آر کے مینیجنگ ڈائریکٹر عوف عبدالرحمن نے شرکت کی۔ شرکا نے پاکستان میں پہلے سے موجود مقامی تنازعاتی حل کے طریقوں کو اہمیت دینے اور اے ڈی آر کو مکمل طور پر ایک نیا یا بیرونی طور پر درآمد شدہ تصور سمجھنے سے گریز پر زور دیا۔

Share this post