پاکستان کی آبی سلامتی کے لیے سفارت کاری اور داخلی انتظام میں بہتری ناگزیر، ماہرین

پاکستان کی آبی سلامتی کے لیے سفارت کاری اور داخلی انتظام میں بہتری ناگزیر، ماہرین

پاکستان کو سندھ طاس معاہدے (انڈس واٹر ٹریٹی) کے تحت اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے مسلسل سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر آبی وسائل کے مؤثر انتظام کو بھی ترجیح دینا ہوگی۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کے آبی مفادات کا تحفظ محض قانونی کارروائی تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کے لیے عالمی سطح پر مؤثر سفارت کاری، بین الاقوامی حمایت کا حصول، پانی کے ضیاع میں کمی اور متعلقہ اداروں کے مابین بہتر رابطہ و تعاون بھی ضروری ہے۔

ان خیالات کا اظہار یکم اکتوبر ۲۰۲۶ء  اسلام آباد میں انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز)آئی پی ایس (کے زیر اہتمام آبی حقوق اور آبی سلامتی کے تحفظ  کے عنوان سے منعقدہ سیمینار میں کیا گیا۔ سیمینار میں اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے سابق ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور سابق سفیر شفقت کاکاخیل، نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کے پروفیسر ڈاکٹر افصح قاضی، کومسیٹس میں آبی وسائل کے جامع انتظام سے متعلق قائم یونیسکو چیئر کی رکن ڈاکٹر سمیرا فہمی خان، چیئرمین آئی پی ایس خالد رحمان، وائس چیئرمین  سید ابرار حسین اور آئی پی ایس کی ریسرچ آفیسر فریال قاضی نے شرکت کی۔

اپنے ابتدائی کلمات میں وائس چیئرمین آئی پی ایس سید ابرار حسین نے سندھ طاس معاہدے کی تزویراتی، ماحولیاتی اور معاشی و سماجی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس امر کی ضرورت پر زور دیا کہ معاہدے کو محض موجودہ تنازعات کے تناظر میں نہیں بلکہ اس کے تاریخی، سفارتی اور پالیسی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے سمجھا جائے۔

کلیدی خطاب کرتے ہوئے سفیر شفقت کاکاخیل نے سندھ طاس معاہدے کے تاریخی پس منظر، موجودہ صورت حال اور مستقبل کے امکانات کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے معاہدے کو اپنی نوعیت کے جامع ترین آبی تقسیم کے معاہدوں میں شمار کرتے ہوئے اسے پاکستان کے لیے ایک مثالی معاہدہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے اپریل ۲۰۲۵ء  میں معاہدے کو التوا میں رکھنے کے اعلان سے قبل ہی اس میں نظرثانی کی کوششیں شروع کر دی تھیں اور معاہدے میں طے شدہ طریقہ کار پر عمل درآمد سے گریز کیا تھا۔ ان کے مطابق پہلگام حملے کے چند گھنٹوں بعد بھارت کی جانب سے جاری کیا جانے والا نوٹس ایک ایسے مؤقف کا اظہار تھا جو اس سے پہلے ہی تشکیل پا رہا تھا۔

شفقت کاکاخیل نے دریائے چناب پر بھارت کی جانب سے پن بجلی کے منصوبوں کی تیز رفتار تعمیر پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس طرزِ عمل کے نتیجے میں چناب کی وادی ڈیموں کے ایک بڑے سلسلے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق بعض ڈیموں کے ڈیزائن اور بنیادی ڈھانچے میں ایسی خصوصیات موجود ہیں جو سندھ طاس معاہدے کے ضمیموں میں درج دفعات اور تکنیکی تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتیں، جبکہ متعلقہ طریقہ کار پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے اس صورت حال کو بھارتی حکومت کے اس دیرینہ مؤقف کے تسلسل کے طور پر بیان کیا جس کے تحت وہ سندھ طاس معاہدے کو غیر منصفانہ قرار دیتی رہی ہے، حالانکہ بھارت نے اس معاہدے پر آزادانہ رضامندی سے دستخط کیے تھے اور طویل عرصے تک اس سے استفادہ بھی کیا ہے۔

شفقت کاکاخیل نے پاکستان کی جانب سے محتاط اور متوازن ردعمل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو تعاون اور سفارت کاری کا راستہ برقرار رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے حقوق کے دفاع کے لیے پاکستان کی کوششیں صرف دی ہیگ میں قانونی مقدمے تک محدود نہیں ہیں، بلکہ پاکستانی سفارتی مشنز عالمی سطح پر ملک کے مؤقف کو اجاگر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی سطح پر یہ مؤقف پیش کر رہا ہے کہ معاہدے کی خلاف ورزی پاکستان نہیں بلکہ بھارت کی جانب سے کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور عالمی بینک، جو معاہدے کے بنیادی ڈھانچے کی تشکیل میں شامل فریق رہے ہیں، کو معاہدے کی بحالی کے لیے فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر افصح قاضی نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مستقل ثالثی عدالت کے فیصلے کو تسلیم نہ کرنا اسے اپنی ذمہ داریوں سے بری نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ نرم سفارت کاری کے ذریعے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے بالواسطہ دباؤ پیدا کیا جا سکتا ہے، جبکہ سفارتی روابط اور عالمی توجہ رسمی قانونی کارروائیوں کو تقویت دے سکتی ہے۔ انہوں نے پاکستان کے داخلی آبی انتظام کے مسائل پر بھی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق جہاں بیرونی سطح پر پاکستان کے آبی حقوق کے تحفظ کی کوششیں ضروری ہیں، وہیں ملک کو پانی کے ضیاع کو کم کرنے اور دستیاب آبی وسائل کے بہتر استعمال و انتظام کے لیے بھی مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔

ڈاکٹر سمیرا فہمی خان نے آبی مسائل کے ادارہ جاتی پہلو پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دستیاب اعداد و شمار اور معلومات کو مؤثر پالیسی اقدامات میں تبدیل کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ اور تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کے مابین مربوط کوششیں اس امر میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں کہ علمی معلومات اور شواہد کو پاکستان کے آبی سلامتی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

سیمینار کے اختتامی کلمات میں چیئرمین آئی پی ایس خالد رحمان نے کہا کہ بنیادی طور پر یہ مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان صرف آبی سلامتی کا نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کا بھی ہے۔ ان کے مطابق سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھنے سے پیدا ہونے والے چیلنج کا مؤثر حل بھارت کی سیاسی خیرسگالی کے بغیر ممکن نہیں اور اس معاملے کو اس وسیع تر سیاسی تناظر سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو اپنے آبی مفادات کے تحفظ کے لیے فوری نوعیت کے اقدامات کے ساتھ ساتھ ایک جامع اور طویل المدتی حکمتِ عملی بھی اختیار کرنی چاہیے۔

Share this post