پاکستان میں قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے لیے بیٹری اسٹوریج اور گرڈ میں لچک ناگزیر: ماہرین
پاکستان میں شمسی توانائی اور قابلِ تجدید توانائی کے دیگر ذرائع میں تیزی سے اضافے کے پیش نظر بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز کے وسیع استعمال اور بجلی کے گرڈ میں لچک پیدا کرنے کے لیے مربوط حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ توانائی ذخیرہ کرنے کی سہولت سے دن کے اوقات میں پیدا ہونے والی اضافی بجلی کو زیادہ طلب کے اوقات میں استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے گرڈ پر دباؤ کم کرنے اور بجلی کے نظام کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس)، اسلام آباد کے زیرِ اہتمام ۱۱ اگست ۲۰۲۶ء کو منعقدہ ویبینار بعنوان ’’قابلِ تجدید توانائی کے انضمام کے لیے توانائی کا ذخیرہ اور گرڈ کی لچک‘‘ میں کیا گیا۔ اجلاس میں نیشنل گرڈ کمپنی کے چیئرمین ڈاکٹر فیاض چوہدری، لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر نوید ارشد اور ہواوے کے سلوشنز مینیجر سمیر رضا نے شرکت کی۔ آغورا کے پروجیکٹ مینیجر (الیکٹرانکس) حمزہ نعیم، سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کے عمر ہارون ملک، پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ کے عمر خان، آئی پی ایس کے ایسوسی ایٹ عمار یاسر اور آئی پی ایس کے چیئرمین خالد رحمان نے بھی گفتگو میں حصہ لیا۔ اجلاس کی نظامت آئی پی ایس کی ریسرچ آفیسر فریال قاضی نے کی۔
حمزہ نعیم نے کہا کہ تقسیم شدہ توانائی کے وسائل کے بڑھتے ہوئے استعمال سے پاکستان کا بجلی کا نظام زیادہ لچک دار نیٹ ورک میں تبدیل ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق شمسی توانائی میں اضافے سے دن کے وسط میں گرڈ سے بجلی کی طلب کم ہوتی ہے، جبکہ شام کے وقت طلب میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے، جس کے باعث نظام کے تحفظ اور لاگت کے مؤثر انتظام کے لیے گرڈ میں لچک ضروری ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر نوید ارشد نے کہا کہ مناسب ذخیرہ کرنے کی سہولیات نہ ہونے کے باعث بجلی کو بڑی حد تک پیداوار کے وقت ہی استعمال کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز کو بجلی کے گرڈ کی ساخت اور کارکردگی میں تبدیلی لانے والی ٹیکنالوجی قرار دیا اور کہا کہ بیٹریوں کی قیمتوں میں کمی ان کے استعمال کو فروغ دے سکتی ہے۔
ڈاکٹر فیاض چوہدری نے کہا کہ نیشنل گرڈ کمپنی بیٹریوں سمیت گرڈ کو معاونت فراہم کرنے والی ٹیکنالوجیز کے استعمال میں سہولت دے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ دن کے وقت پیدا ہونے والی اضافی شمسی بجلی کو شام اور رات میں استعمال کے لیے ذخیرہ کرنے سے گرڈ پر دباؤ کم کیا جا سکتا ہے۔
سمیر رضا نے بیٹری اسٹوریج کے مختلف استعمالات، بشمول زیادہ طلب کے اوقات میں بجلی کے استعمال میں کمی، قابلِ تجدید توانائی کے انضمام، فریکوئنسی اور وولٹیج کے استحکام، صنعتی استعمال اور ورچوئل پاور پلانٹس پر روشنی ڈالی۔ تاہم، انہوں نے مالی وسائل، تکنیکی مہارت اور ضابطہ جاتی فریم ورک کی کمی کو اہم چیلنجز قرار دیا۔
عمر ہارون ملک نے بتایا کہ انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر بیٹریوں کے معیاری طریقۂ کار اور بجلی کے نظام میں ان کے مؤثر انضمام کا جائزہ لے رہا ہے۔ عمر خان نے کہا کہ پاکستان کو پہلے بیٹری اسٹوریج کے مخصوص مقاصد اور نظام کی ضروریات کا تعین کرنا ہوگا۔
عمار یاسر نے کہا کہ بجلی کی بلند قیمتیں صارفین کو میٹر کے پیچھے نصب شمسی نظام اپنانے کی طرف لے جا رہی ہیں۔ انہوں نے گرڈ کے مسائل سے نمٹنے کے لیے بیٹری اسٹوریج اور ورچوئل پاور پلانٹس پر غور کا خیرمقدم کیا۔
اختتامی کلمات میں خالد رحمان نے توانائی کے شعبے میں تبدیلی کے لیے مؤثر حکمرانی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے مارکیٹ کی قوتوں اور ضابطہ جاتی نگرانی میں توازن قائم کرنے کی ضرورت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اصلاحات کا مقصد بجلی کی دستیابی، رسائی، استطاعت اور قابلِ اعتماد فراہمی یقینی بنانا ہونا چاہیے۔
