پاکستان: ناگزیر پالیسی اقدامات

پاکستان: ناگزیر پالیسی اقدامات

انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے ماہرین نے مختلف میدانوں میں ترجیحات کے تعین، قابلِ عمل نکات اور ان کے قابل عمل حل کو تجاویز کی شکل دے کر ایک ”قومی ایجنڈا“ کی صورت میں ملک کے نئے حکمرانوں کے سامنے پیش کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ پہلے مرحلے میں بد عنوانی میں خاطر خواہ کمی کے لیے اس کے خلاف ایک جارحانہ جنگ کا آغاز کیا جائے اور ایک متعین وقت میں اس کے حتمی خاتمے کی کوشش کی جائے۔ ۲۱ جون ۲۰۱۳ء کو ”پاکستان:ناگزیر پالیسی اقدامات – قوم کے سامنے ایجنڈا“ کے عنوان سے پالیسی تجاویزکے اجراء کے پروگرام کے آغاز کے موقع پر اپنے افتتاحی کلمات میں آئی پی ایس کے چیئرمین پروفیسر خورشید احمد نے کہا کہ ”یہ وہ موقع ہے جب ہم اپنے حصے کا کردار ادا کرتے ہوئے نئی قیادت کو اس بات کا احساس دلایئں کہ وہ قانونی حیثیت، ملکی سالمیت اور اسلوبِ حکمرانی، صلاحیت و قابلیت کی قدر اور ملکی و بین الاقوامی ساکھ جیسے پانچ بحرانوں سے نبردآزما ہونے کی صلاحیت پیدا کرے۔”“

 

dsc 0502

 

“ اس تعارفی تقریب سے جن دیگر افراد نے خطاب کیا ان میں آئی پی ایس کے ڈائریکٹر جنرل خالد رحمٰن، آئی پی ایس کی اکیڈمک کونسل کے رکن اور پلاننگ کمیشن کے سابق چیف اکانومسٹ فصیح الدین، سابق سیکرٹری وزارتِ پانی و بجلی مرزا حامد حسن اور سلامتی کے امور پر تجزیہ کار بریگیڈیئر(ریٹائرڈ) سید نذیر شامل تھے۔ وہ مصنفین جنہوں نے آئینی، سیاسی، اسلوبِ حکمرانی، ملکی سلامتی، خارجہ پالیسی، کشمیر، اقتصادیات، توانائی، تعلیم، خواتین اور معاشرہ جیسے امور پر ایک وسیع ایجنڈا پیش کیا ہے، ان میں سابق سیکرٹری وزارتِ خارجہ شمشاد اے خان، وائس چانسلر رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد کے ساتھ ساتھ آئی پی ایس کی ریسرچ فیکلٹی کے ارکان بھی شامل ہیں۔

پروفیسر خورشید احمد کا کہنا تھا کہ اسلوبِ حکمرانی میں ہماری ناکامی بہت سے عوامل کا پتہ دیتی ہے جن میں قانونی حیثیت اور ساکھ میں کمی، قانون کی حکمرانی میں ناکامی، میرٹ کے اصولوں کی بے توقیری، شفافیت کی غیر موجودگی، طریقہ کار سے شدید روگردانی، اختیارات کا بے محابا استعمال اور اپنی ذات کے لیے دولت کے انبار لگاتے چلے جانا شامل ہیں۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ نئی حکومت کو سب سے زیادہ توجہ اس بات پر دینی چاہیے کہ اسلوبِ حکمرانی کے بنیادی مسائل کو ٹھیک کیا جائے۔ قوم جس چیز کی شدت سے ضرورت محسوس کر رہی ہے وہ سیاسی، اقتصادی اور سماجی معاملات پر اندرونی استحکام ہے۔ اسلوبِ حکمرانی کی بنیاد قانون کی حاکمیت احتساب اور غیر امتیازی انصاف پر قائم ہونی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر وزراء،مشیروں اور وزراءِ مملکت کی تعداد اس شرح تک کم کی جائے جو اٹھارہویں ترمیم میں قانون ساز ادارے نے طے کر دی ہے۔

 

dsc 0544 dsc 0519 dsc 0524

 

انہوں نے معاشی ماڈل کی تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسے معاشی راستے کو اختیار کیا جائے جس میں ترقی، انسانی وسائل کی نشونما، بدعنوانی کے خاتمے اور گھریلو وسائل کے ساتھ ساتھ تارکینِ وطن کے وسائل کو موثر طور پر متحرک کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی ہو۔ انہوں نے مدلل انداز میں بتایا کہ ملک کا مالیاتی نظام وفاقیت کے اصولوں پر پورا نہیں اترتا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک ٹیکس بھی وفاقی حکومت سے صوبائی حکومت کی طرف منتقل نہیں ہوتے، مالی ذمہ داریوں میں حصہ داری کا اصول ہر سطح پر فروغ پذیر نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے توجہ دلائی کہ بڑے بڑے معاشی عوامل کے استحکام اور نچلی سطح کی معاشی ترقی کے لیے اہم اہداف مقرر کیے جائیں تاکہ معاشرے کے لوگوں کی فلا ح و بہبود اور اقتصادی عمل میں ان کی فعال شرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔ پروفیسر خورشید کا کہنا تھا کہ مرکزی حکومت سے صوبائی حکومتوں کی طرف اختیارات کی منتقلی کا حقیقی پہلو یہ ہے کہ وفاقیت کی بنیادوں پر سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ایک ایسا صاف ستھرا طریقہ کار وضع کرنے کے لیے کہا جس میں وفاق کے ساتھ ساتھ صوبوں بالخصوص بلوچستان کے حقیقی خدشات کو اس طرح مد نظر رکھا جائے کہ تمام متعلقہ افراد اور ادارے اس کوشش کا حصہ بنیں اور کسی حتمی اتفاق رائے پر پہنچ پائیں۔ مرزا حامد حسن نے کہ کہ ملک میں موجود توانائی کا بحران بنیادی طور پر چار وجوہات کی وجہ سے ہے۔ پالیسی، اسلوبِ حکمرانی، فعالیت اور لاگت۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران کا کوئی فوری حل پیش کرنا آسان نہیں ہے۔ اس کثیر جہتی بحران کے حل کے لیے قلیل مدتی، وسط مدتی اور طویل مدتی اقدامات کے ساتھ کچھ مشکل پالیسی فیصلوں کی ضرورت ہو گی۔ قلیل مدتی اقدامات کے لیے مشورہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گردشی قرضوں کے مسئلے کا حل انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ اس مقصد کے لیے سرکولرڈیٹ ریٹائرمنٹ فنڈ تشکیل دیا جائے۔ پبلک سیکٹر کے اداروں سے رقوم کی وصولی بہت اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ خزانہ کو یہ بات یقینی بنانی چاہیےکہ حکومتی اداروں کو اتنا مناسب بجٹ فراہم کیا جائے کہ وہ بروقت بجلی کے بلوں کی ادائیگی کر سکیں۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ نیپرا کے طے کردہ ٹیکس کو فوری طور پر نافذ کیا جانا چاہیے۔ بڑے پیمانے پر بجلی کی چوری روکنے کے لیے انتظامی اور تکنیکی طریقۂ کار اختیار کیا جائے اور لوگوں کو بجلی کی بچت سے متعلق مختلف پہلوؤں سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔ وسط مدتی اور طویل مدتی فیصلوں کے بارے میں انہوں نے تجویز دی کہ ایک مربوط اور جامع توانائی پالیسی مرتب کرنے کے لیے جلد از جلد اقدامات اٹھائے جائیں اور اس بات کو اہمیت دی جانی چاہیے کہ توانائی کے شعبے کی الگ وزارت بنائی جائے۔ پبلک سیکٹر میں بھی بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں(GENCOs) کے لیے ایسے فنڈ کا انتظام کیا جائے جس سے وہ اپنے پرانے پلانٹس کی مرمت کرکے انہیں قابلِ عمل حالت میں لا سکیں۔ توانائی کے متبادل ذرائع کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے جاندار اور مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔ مخلوط توانائی کے نظام کو درست کرنے کے لیے پالیسی کی تبدیلی پر مبنی منصوبہ بندی کی جائے تاکہ تیل پر مبنی تھرمل بجلی کی بجائے پن بجلی پر توجہ مرکوز کی جا سکے۔ تھرمیں کوئلے کے وسیع ذخائر کو جلد از جلد ترقیاتی کاموں اور بجلی کی پیداوار کے لیے استعمال میں لانے کی سنجیدہ کوشش کی جانی چاہیے۔

 

dsc 0555 dsc 0553 dsc 0533 dsc 0536

 

حامد حسن نے پانی کے تیزی سے بڑھتے ہوئے بحران پر انتباہ کرتے ہوئے کہا اگر پانی کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو بڑھا کر ملک میں بڑے آبی ذخائر تعمیر کرنے کے اقدامات نہ اٹھائے گئے تو یہ بحران توانائی کے بحران سے زیادہ شدید ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت پانی ذخیرہ کرنے کی اوسط مدت ایک ماہ ہے جو دنیا بھر کے ممالک میں سب سے کم اوسط رکھنے والے ممالک میں سے ہے۔ سید نذیر نے سلامتی کے معاملات پر اپنا پالیسی بریف پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج جس طرح قوم شدید قسم کے خطرات میں گھری ہوئی ہے، ان مسائل اور خطرات کو شکست صرف اجتماعی قومی عزم اور کثیر الجہت کوششوں سے دی جا سکتی ہے۔ اس ضمن میں سب سے اہم کردار دیگر ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر پاکستانی فوج کو ادا کرنا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ ”دہشت گردی کے خلاف جنگ“ سے نکلنا اور قبضہ کرنے والی فوجوں کو محفوظ راستہ دے کر سہولت فراہم کرنا اور افغان تنازعہ میں شامل تمام جماعتوں کے لیے خیر سگالی کے جذبات کا اظہار اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ کرتے ہوئے بہت سوچی سمجھی حکمتِ عملی مرتب کرنا ہو گی تاکہ فاٹا کے لوگوں کے دل اور دماغ جیتے جا سکیں۔ فصیح الدین نے ایک وسیع اتفاق رائے پر مبنی نقطۂ نظر پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک اسلامی، عدل و انصاف پر مبنی، ترقی پسند اور خوشحال قوم کی تعمیر کے لیے بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کے افکار پر عمل کیا جائے جو ان کے مختلف بیانات کی شکل میں مختلف موضوعات کا احاطہ کیے ہوئے ہیں یعنی اسلامی سماجی انصاف، عوام اور غریب کی فلاح، انصاف، نیک نامی، اصولِ عدل، امن و امان (زندگی، جائیداد اور مذہبی عقائد کا تحفظ)، یکساں مواقع، حقوق، مراعات اور تمام شہریوں کی ذمہ داریاں، اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط، بدعنوانی اور اقربا پروری کا خاتمہ، جمہوریت، انسانی حقوق اور صنفی مساوات، اخلاقی رویوں کی تعمیر، سائنسی اور تکنیکی تعلیم اور ترقی پسند اور صنعتی ریاست۔ آن لائن مکمل رپورٹ پڑھنے کے لیے،یہاں کیجیے

Share this post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے