امریکا کے اَساسی نظریات اور مداخلت پسندی کے درمیان دیرینہ کشمکش آج بھی عالمی نظام کی تشکیل پرمؤثر: آئی پی ایس سیمینار

 امریکا کے قیام کو ڈھائی سو برس مکمل ہونے کے باوجود اس کے بنیادی نظریات اور مداخلت پسند خارجہ پالیسی کے درمیان موجود دیرینہ کشمکش آج بھی نہ صرف […]

Read more...

چین کے ساتھ باہمی انحصار کا قیام پاکستان کی کثیر الجہتی ترقی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے: ماہرین

پاکستان اور چین کے تعلقات باہمی اعتماد، عدم مداخلت اور مشترکہ جغرافیائی و سیاسی مفادات کی بنیاد پر ایک مضبوط تزویراتی شراکت داری کی صورت اختیار کر چکے ہیں، […]

Read more...

بدلتا عالمی نظام پاکستان اور روس کے درمیان تعاون کے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے: آئی پی ایس سیمینار

بدلتی ہوئی عالمی سیاسی و معاشی صورتِ حال اور ابھرتا ہوا کثیر قطبی عالمی نظام پاکستان اور روس کے درمیان اقتصادی، تزویراتی اور علاقائی تعاون کے فروغ کے لیے […]

Read more...

مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتِ حال کو معمول پر دکھانے کی بھارتی کوششوں کا توڑ پائیدار سفارت کاری سے ہی ممکن ہے: سیمینار

 مقبوضہ کشمیر میں موجودہ صورتِ حال کو معمول پر دکھانے کی بھارت کی کوششوں کا مؤثر مقابلہ پائیدار سفارت کاری اور باخبر وکالت کے ذریعے ہی کیا جا سکتا […]

Read more...

ایمبیسیڈر (ر) اعزاز احمد چوہدری کے ساتھ دی لیونگ اسکرپٹس سیشنز

آئی پی ایس کے اورل ہسٹری پراجیکٹ دی لیونگ اسکرپٹس کا 39th سیشن سابق سیکریٹری خارجہ پاکستان، ایمبیسیڈر اعزاز احمد چوہدری کے ساتھ منعقد ہوا۔ یہ مکالماتی نشستیں 27 […]

Read more...

قانونی طور پر درست مسئلہ کشمیر ، نوجوانوں پر اضافی ذمہ داری عائدکرتا ہے: سیمینار

کشمیر کا مسئلہ ایک قانونی طور پر درست اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ جدوجہد ہے جو کشمیری عوام کے حق خود ارادیت سے متعلق ہے اور یہ […]

Read more...

کشمیر پر اقوام متحدہ میں بھارت کی اپنی گذارشات اس کے یکطرفہ اقدامات کو قانونی طور پر غیر جائز قرار دیتی ہیں: ماہرین

بھارت نے ۱۹۴۸ میں کشمیر کے تنازع کو اقوام متحدہ کے سامنے پیش کرکے بین الاقوامی سطح پر اس مسئلے کو اجاگر کیا۔ اپنے موقف میں بھارت نے خود […]

Read more...

ہندو توا کے بڑھتے ہوئے عالمی نیٹ ورکس اسلاموفوبیا کو ہوا دے رہے ہیں اور امن کو خطرے میں ڈال رہے ہیں: سیمینار

ہندو توا کی نظریاتی سوچ کے بڑھتے ہوئے اثرات اور اس کے پھیلتے ہوئے عالمی نیٹ ورکس نہ صرف تارکینِ وطن کی سیاست کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ […]

Read more...