مشرقِ وسطیٰ میں تبدیل ہوتی ہوئی صورتحال: پاکستان کے لیے اثرات اور امکانات

مشرقِ وسطیٰ میں تبدیل ہوتی ہوئی صورتحال: پاکستان کے لیے اثرات اور امکانات

Emerging-Dynamics-in-the-Middle-East-thumbمشرقِ وسطیٰ میں خراب ہوتی صورتحال: پاکستان کے لیے غیر جانبداری بہت بڑا امتحان ہو گی، ماہرین

 Emerging-Dynamics-in-the-Middle-East

مشرقِ وسطیٰ میں خراب ہوتی صورتحال: پاکستان کے لیے غیر جانبداری بہت بڑا امتحان ہو گی، ماہرین

آئ پی ایس میں منعقدہ ایک گول میز کانفرنس میں ماہرین نے اس رائے کا اظہار کیا ہےکہ مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے خراب ہوتی ہوئَ صورتحال کہ پیشِ نظر میں پاکستان کو ایک جامع اور دانشمندانہ پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت ہے جو کہ ملک کی داخلی، سیاسی، معاشی اور قومی سلامتی کے محرکات کو مدِ نظر رکھ کر بنائ جائے۔

 ان خیالات کا اظہار ماہرین نے ‘مشرقِ وسطیٰ میں تبدیل ہوتی ہوئِ صورتحال: پاکستان کے لیے اثرات اور امکانات’ کے عنوان سے ہونے والی کانفرنس میں کیا جس کا انعقاد 3 جنوری 2020 کو کیا گیا۔ کانفرنس سے خطاب کرنے والوں میں ایمبیسیڈر [ر] سید ابرار حسین، ایمبیسیڈر [ر] نائلہ چوہان، ایگزیگٹیو پریزیڈنٹ آئ پی ایس خالد رحمٰن، ائیر کموڈور [ر] خالد بنوری، ائیر کموڈور [ر] خالد اقبال، اور سید محمد علی، ایگزیگٹیو ڈائیریکٹر ، ادارہ برائے امن، سلامتی اور ترقی شامل تھے۔ 

 کانفرنس کے شرکاء کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سلامتی کو قی الوقت موجود سب سے بڑا چیلنج یہ اس کی مشرقی سرحد پر بھارت کی جانب سے بڑے پیمانے پر فوجی نقل و حرکت ہے اور کشمیر میں تیزی سے خراب ہوتی ہوئ صورتحال ہے۔ پاکستان کی فوجی صلاحیت اور اسٹریٹجک فوکس کا کشمیر اور بھارت سے ہٹنا اس وقت پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔ دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں مقیم پاکستانیوں کی ملک میں بھیجی جانے والی رقوم  کے باعث پاکستان  کا  معاشی دارومدار ، اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی توانائ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بھی سارا دارومدار مشرقِ وسطیٰ پر ہے۔ اس ساری صورتحال میں پاکستان کے لیے کسی بڑھتے ہوئے تنازعے میں جانبداری کے بجائے ہر لحاظ سےغیر جانبدار رویہ اپنانا ایک دانشمندانہ اقدام ہو گا، تاہم غیر جانبداری اسلام آباد کے لیے ایک بہت کٹھن امتحان بھی ثابت ہوگا کیونکہ یہ عملا انتہائی مشکل ہے۔ البتہ اس سلسلے میں پاکستان ایک اہم سفارتی کردار ادا کر سکتا ہے۔ 

شرکاء کا کہنا تھا پاکستان کی خارجہ پالیسی کا تاریخی اور کلیدی اصول بھی یہی رہا ہے کہ اگر مسلم ممالک کے درمیان کوئ تنازعہ کھڑا ہوتا ہے تو پاکستان اس کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے، اور یہاں بھی پاکستان کے لیے بہتر یہی ہو گا کہ وہ اپنے داخلی، خارجی  اور قومی سلامتی کے مفادات کے پیشِ نظر تنازعے کو کم کرنے کے لیے پس منظر میں اپنا کردار ادا کرے، دونوں اطراف کو صبر و تحمل کی تجویز دے، اور اس کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق اور علاقائ سلامتی کی  

صورتحال کے حوالے سے اپنے خدشات تمام متعلقین تک پہنچائے۔

Share this post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے