آئی پی ایس کی شفافیت – ایک معروضی جائزہ

ipsl

آئی پی ایس کی شفافیت – ایک معروضی جائزہ

انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز، اسلام آباد ایک آزاد علمی و تحقیقی فورم ہے جو پاکستان اور عالم اسلام کو درپیش مختلف مسائل پر آزادانہ تحقیق اور مکالمے کا اہتمام کرتا ہے۔ ترجیحی طور پر مسلم دنیا میں حکومتوں کی معاشی، سیاسی، بین الاقوامی، فنی اور تعلیمی پالیسیوں کے غیرجانبدارانہ تجزیے، مطالعے اور متبادل لائحہ عمل پیش کرنے کے لیے سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس مقصد کے لیے مختلف نقطۂ ہائے نظر رکھنے والے اہلِ فکروفن سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ چنانچہ قومی سطح کی بہت سی اہم شخصیات سے استفادہ کے لیے انہیں وقتاً فوقتاً مدعو کیا جاتا ہے۔ تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کے اہم رہنما کسی نہ کسی حوالہ سے آئی پی ایس کے مہمان بنے ہیں اور انہیں اظہارِ خیال کا موقع دیا گیا ہے۔

۱۹۷۹ء میں اپنے قیام سے لے کر گزشتہ۳۷ برس میں آئی پی ایس نے قومی اور بین الاقوامی معاملات و مسائل پر اپنی توجہات مرکوز کی ہیں اور اپنے پلیٹ فارم کو اسکالرز، سیاسی تجزیہ کاروں، دانش وروں اور فکری رہنماؤں کے لیے پیش کیا ہے اور ان سے استفادہ کیا ہے۔ نیز علمی تبادلۂ خیال اور تحقیقی کام کے اہم مشاہدات کو مختلف انداز اور طریقوں سے عام افراد تک پہنچانے کا اہتمام کیا ہے۔ آئی پی ایس نے اب تک ۳۰۰ سے زائد مطبوعات، ۵۰۰ سے زائد سیمینارز، کم و بیش اتنی ہی ہیومین ڈیویلپمنٹ ورکشاپس اور ۱۵۰۰ سے زائد رپورٹس تیار کی ہیں۔ آئی پی ایس کا انگریزی زبان میں تحقیقی مجلہ ’’پالیسی پرسپیکٹیوز‘‘ ہر چھ ماہ بعد تیار ہوتا ہے۔ نیز اردو میں ’’مغرب اور اسلام‘‘ اور ’’نقطۂ نظر‘‘ شائع ہوتے ہیں۔

یہ ادارہ کسی فرد کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ قانونی طور پر سوسائٹیز ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ادارہ ہے۔ ایف سی بی آر نے اسے ٹیکس سے مستثنیٰ (Tax Exempted) ادارہ قرار دیا ہوا ہے۔ اس کا مالیاتی نظام شفاف ہے۔ باقاعدگی سے آڈٹ ہوتا ہے، سالانہ آڈٹ رپورٹ تیار ہوتی ہے۔ سرکاری قواعد کے مطابق مقررہ ادارہ Center for Philonthropy اس کا تنظیمی آڈٹ بھی کرتا ہے (جس میں گورننس، شفافیت اور مالی امور کو جانچا جاتا ہے) جس کی کلیرنس کے بعد ٹیکس سے استثنیٰ کا سرٹیفیکیٹ جاری ہوتا ہے۔ اس کی اکیڈمک کونسل ملک کے نامور اہلِ علم پر مشتمل ہے جس کا سالانہ اجلاس ہوتا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین سمیت یہ تمام افراد آئی پی ایس کے علمی و تحقیقی کاموں میں بھرپور تعاون کرتے ہیں اور اپنا قیمتی وقت دیتے ہیں اور یہ کام کسی مالی منفعت کے بغیر رضاکارانہ طور پر کرتے ہیں بلکہ مالی طور پر اپنی جانب سے عطیات بھی دیتے رہتے ہیں۔ ادارہ کی لائبریری جو کم و بیش ۲۵۰۰۰ کتب پر مشتمل ہے اس کا ایک بڑا حصہ انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ کی جانب سے عطیہ کیا گیا ہے۔

ادارہ کے قیام کے دو اڑھائی سال بعد ۱۹۸۱ء میں یہ طے کیا گیا کہ اپنے کام کی نوعیت اور مالی و انتظامی استحکام کے نقطۂ نظر سے ادارہ کو اپنا مستقل دفتر بنانا چاہیے۔ چنانچہ سی ڈی اے کو انسٹی ٹیوٹ کی علمی و تحقیقی حیثیت اور مقاصد سے باخبر کرتے ہوئے اس مقصد کے لیے پلاٹ کے حصول کی درخواست دی گئی۔

سی ڈی اے نے ابتدائی طور پر سیکٹر ایچ ایٹ میں پلاٹ کی پیشکش کی تاہم انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے نظرثانی کی درخواست میں بیان کیے گئے مقاصد اور اپروچ کا لحاظ رکھتے ہوئے ادارہ کو ایف سیون مرکز میں ایک پلاٹ لیز پر الاٹ کیا گیا۔ سی ڈی اے کے قواعد کے مطابق اس کی قیمت ادا کی گئی۔ یہ پلاٹ مفت نہیں ملا تھا۔

اپنے آغاز کے پہلے دن سے آئی پی ایس کے بانی اور اس کی ذمہ دار باڈی کا وژن اور خیال یہ رہا ہے کہ اس ادارہ کو مالی لحاظ سے کسی ایسے فرد، ادارے یا حکومت کا سہارا نہیں لینا جو اس کی سوچ اور پالیسیوں پر اثرانداز ہو سکے۔ آزاد تحقیقی ادارے، خصوصاً پالیسی ریسرچ کے ادارے کو اپنے استحکام، اختیار، آزادیٔ اظہار کے تحفظ کے لیے ضروری تھا کہ وہ کسی بھی گروہی یا حکومتی اثر سے آزاد ہو اور اس کے لیے مالی خود انحصاری بنیادی ضرورت ہے۔

علمی اداروں کی مالی خودانحصاری کے لیے ماضی میں بھی مسلمانوں کے ہاں جو طریقہ اختیار کیا گیا اور جو آج بھی مسلم ممالک کے علاوہ مغرب کے بہت سے رفاہی اور علمی اداروں میں بھی رائج ہے وہ وقف یا endownment کا طریقہ آئی پی ایس نے بھی اختیار کیا۔ یعنی ادارے کے نام پر جائیداد کے کرائے یا سرمایہ کاری کی کوئی ایسی صورت جس میں اصل سرمایہ محفوظ رہے اور اس کی آمدنی سے ادارے کے اخراجات پورے ہوتے رہیں۔

اسی سوچ کے تحت آئی پی ایس نے ایسا پلاٹ حاصل کرنے کی کوشش کی جس کا کچھ حصہ کمرشل استعمال کے لیے ہو اور کچھ حصہ دفتر کی ضروریات پوری کر سکے۔ تاکہ کمرشل حصہ کی آمدنی سے دفتر کے اخراجات پورے ہو سکیں۔ یہ بات سی ڈی اے کے ساتھ پلاٹ کے ضمن میں کیے جانے والے معاہدہ کا واضح طور پر حصہ تھی۔ ایچ ایٹ میں پلاٹ کی پیشکش قبول نہ کرنے کی وجہ کا پس منظر بھی یہی تھا کہ اس وقت یہاں دفتر کے کچھ حصے کو کمرشل نہیں بنایا جا سکتا تھا۔ جبکہ اس زمانے میں یہ جگہ عملاً غیرآباد ہونے کے باعث خود آئی پی ایس کے لیے بھی موزوں نہ تھی جس کے کام کام ایک بڑا حصہ سیمینار اور کانفرنسوں کا انعقاد ہے جس میں شرکاء کے لیے آمدورفت اور تحفظ کو آسان اور یقینی بنانا ضروری ہے۔

۱۹۸۹/۹۰ء میں جب آئی پی ایس ایف سیون مرکز میں منتقل ہوا، جناح سپر مارکیٹ اپنی کمرشل حیثیت کے باجود علمی و تحقیقی کام کرنے کے لحاظ سے بڑی حد تک ایک پُرسکون جگہ تھی۔ یہاں تقریباً بیس سال تک آئی پی ایس کا دفتر قائم رہا۔

وقت کے ساتھ ساتھ مالی وسائل کی بنیاد کو وسیع کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی رہی۔ چنانچہ ۲۰۰۷ء میں بیسمنٹ اور فرسٹ فلور کو بھی کمرشل حیثیت دینے کے لیے سی ڈی اے سے منظوری حاصل کی گئی۔ سی ڈی اے کے بورڈ نے اس کی منظوری دی اور قواعد کے مطابق اس کی مقررہ فیس سی ڈی اے کو ادا کی گئی۔

بڑھتے ہوئے کام کے پیش نظر مالی وسائل کو مزید وسیع کرنے اور گہماگہمی اور پُرشور ماحول سے دور کسی نسبتاً پُرسکون اور قومی و بین الاقوامی کانفرنسوں اور سیمینارز کے حوالہ سے سیکیوریٹی کے اعتبار سے محفوظ جگہ پر منتقل ہونے کا احساس بڑھتا جا رہا تھا۔ اس ضرورت کے تحت ۲۰۰۸ء میں سی ڈی اے سے دوسری منزل کو بھی کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور اس کے نتیجہ میں پوری عمارت کو کمرشلائز کرنے کی منظوری حاصل کی گئی جسے اس مرحلہ پر سی ڈی اے نے منظور کرتے ہوئے بلڈنگ اور اس پلاٹ کو کمرشل قرار دینے کا فیصلہ کیا۔ قواعد کے مطابق اس کی فیس بھی ادا کی گئی۔

آئی پی ایس کے علمی و تحقیقی مقاصد کو، جو اس کے قیام کے وقت ہی طے کیے گئے تھے، زیادہ بہتر طور پر حاصل کرنے کے لیے ایف سیون مرکز کی اس بلڈنگ کو فروخت کرنے کے ساتھ ساتھ حاصل ہونے والے وسائل کو نئے وقف کی تشکیل کے ذریعہ کام کو وسعت دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان وسائل کا کوئی معمولی حصہ بھی کسی فرد کے ذاتی مفاد میں استعمال نہیں ہوا۔

انگریزی میں پڑھیں

Share this post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے