سیمینار: نیٹ میٹرنگ — بجلی کے صارفین کے لیے ایک متبادل ذریعہ توانائی؟

net meteringt

سیمینار: نیٹ میٹرنگ — بجلی کے صارفین کے لیے ایک متبادل ذریعہ توانائی؟

 پچھلے سال ستمبر میں نیپرا کی طرف سے نیٹ انرجی میٹرنگ کی سہولت فراہم کرنے کی منظوری دیے جانے کے باوجود بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں (ڈسکوز) اسے عملی شکل دینے میں کمزوری کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اس سہولت کے باعث رہائشی اور تجارتی صارفین جو شمسی توانائی پیدا کرنے میں خود کفیل ہو چکے ہوں وہ اپنی زائد از ضرورت اضافی بجلی گرڈ میں واپس کر سکیں گے۔

انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد میں 19 جنوری 2016ء کو ہونے والے ایک سیمینار میں اس پہلو کو اجاگر کیا گیا۔ سیمینار کا عنوان تھا ”نیٹ میٹرنگ: بجلی کے صارفین کے لیے ایک متبادل ذریعہ توانائی؟“۔ سیمینار میں اس امید کا اظہار کیا گیا کہ ملک میں توانائی کے بحران کو حل کرنے کے لیے حکمت عملی اور وسائل کی فراہمی پر مبنی جس جدید اندازِ نظر کو پذیرائی دی جارہی ہے اس پر عمل درآمد کا آغاز آئندہ چند ماہ میں ہو جائے گا۔ سیمینار میں ملک بھر میں گھریلو سطح پر شمسی توانائی کے ذریعے بجلی کی پیداوار کو مقبول بنانے اور اس کی حوصلہ افزائی کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تاکہ نیٹ میٹرنگ ٹیکنالوجی سے بڑے پیمانے پر بھرپور استفادہ کیا جا سکے۔

سیمینار کی صدارت سابق وفاقی سیکرٹری اور آئی پی ایس میں توانائی پروگرام کے چیئرمین مرزا حامد حسن نے کی۔ مقررین میں مظہر اقبال رانجھا، ڈائریکٹر اسٹینڈرڈ ڈیپارٹمنٹ نیپرا؛ واجد علی کاظمی، چیف انجینئر پلاننگ آئیسکو؛ فیض محمد بھٹہ رکن انرجی کمیٹی پاکستان انجینئرنگ کونسل شامل تھے۔ سیمینار میں کثیر تعداد میں ماہرین توانائی، سرکاری افسران، دانشوروں اور تجارتی و صنعتی نمائندوں نے شرکت کی۔

نیپرا کے منظور کردہ ضوابط پر گفتگو کرتے ہوئے رانجھا نے ملک بھر میں اس کے عملی اطلاق پر ڈسکوز کے ردّعمل پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کی جانب سے سبسڈی کی سہولت ایندھن کی قیمتوں کے بجائے شمسی توانائی کے پینلوں جیسے قابلِ تجدید توانائی کے حامل آلات پر دی گئی ہوتی تو نیٹ میٹرنگ صارفین کی طرف سے بنائی جانے والی زائد بجلی قومی گرڈ میں شامل ہو کر قومی سطح پر بجلی کی پیداواری صلاحیت میں خاطر خواہ حد تک اضافہ کا باعث بن سکتی تھی۔

آئیسکو کی جانب سے کاظمی نے اس تاثر کی نفی کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ آئیسکو نیٹ میٹرنگ پر پہلے ہی  ایک دفتری ضابطۂ کار (ایس او پی) وضع کر چکا ہے اور اس نے پارلیمنٹ ہاؤس میں ایک پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر اس ٹیکنالوجی پر عمل درآمد کا آغاز بھی کر دیا ہے۔ اس منصوبے میں وہاں قائم کیے گئے شمسی توانائی کے پلانٹ کے ذریعے ایک میگا واٹ بجلی از سر نو تقسیم کی صلاحیت کے تحت استعمال ہو رہی ہے۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ حکومتی ادارے پر نیٹ میٹرنگ کو لاگو کرنا ایک علامتی اقدام ہے جو بہرحال اس تصور کو فروغ دینے کے لیے ضروری تھا۔ تاہم اسے گھریلو سطح پر بھرپور پذیرائی دینے کے لیے بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آئیسکو کا ردّعمل قدرے سست رو تھا کیونکہ اس مقصد کے لیے بلنگ سوفٹ ویئر کی عدم موجودگی، فیلڈ میں کام کرنے والے اسٹاف کی ٹریننگ اور افسروں کو اس ٹیکنالوجی سے آگاہی کے لیے علم اور مہارت کی فراہمی اہم تکنیکی مسائل تھے۔ تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ ابتدائی رکاوٹوں کو جلد از جلد دور کر لیا جائے گا اور آئیسکو اس ضمن میں تمام متعلقہ فریقوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے ورکشاپ پروگراموں کے انعقاد کا آغاز کر چکا ہے۔

انجینئرنگ کونسل کے بھٹہ نے نیپرا کے ایس آر او نمبر 892(1)2015 پر جلد از جلد عمل درآمد پر زور دیا جس کے ذریعے نیٹ میٹرنگ کے لیے قواعد و ضوابط کو منظور کیا گیا ہے۔ انہوں نے SRO میں کچھ ترامیم کی سفارش کی جن میں درخواست پر عمل درآمد کے لیے مقرر کیے گئے 100 دنوں میں کمی اور درخواستوں کی مختلف نوعیتوں میں باہمی ربط پر اعلان کردہ اسٹڈی چارجز کو کم کرنا شامل ہیں۔

چند شرکاء نے نیٹ میٹرنگ درخواستوں پر عمل درآمد کے لیے ون ونڈوآپریشن کی سہولت فراہم کرنے کے لیے کہا۔ انہوں نے نیپرا کے قواعدوضوابط میں مبہم رکھے گئے چند امور پر سوال اٹھایا حالانکہ نیٹ میٹرنگ ٹیکنالوجی پر دنیا بھر کے کئی ممالک میں عمل درآمد ہو رہا ہے۔ ان کے نزدیک پاکستان کو نئے تجربات میں الجھنے کے بجائے ان ممالک کے طریقوں کا مطالعہ کرکے ان میں سے بہترین کی پیروی کرنی چاہیے۔

مرزا حامد حسن نے اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے نیٹ میٹرنگ قواعدوضوابط کو خوشگوار علامت قرار دیا اور یہ تسلیم کیا کہ ان قواعدوضوابط کو عملی طور پر لاگو کرنے میں کچھ مزید وقت لگے گا۔

انہوں نے ملک میں توانائی کے قابلِ تجدید وسائل بالخصوص شمسی توانائی کو مقبول بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ توانائی کی پیداوار میں کمیونٹی کی شرکت کے باعث نیٹ میٹرنگ تصور پر کامیابی سے عمل درآمد کیا جا سکے۔

Share this post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے