پاکستان کے لیے ابھرنے کے بہترین مواقع ہیں۔ پروفیسر خورشید احمد

nac15t

پاکستان کے لیے ابھرنے کے بہترین مواقع ہیں۔ پروفیسر خورشید احمد

 ’’ہر بحران کو ایک چیلنج سمجھنا چاہیے اور ہر چیلنج مواقع سے بھرپور ہوتا ہے۔ اب یہ ہمارا کام ہے کہ چھُپے ہوئے مواقع کو تلاش کریں اور اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ان سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔‘‘ یہ بات سابق سینیٹر اور انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد کے چیئرمین پروفیسر خورشید احمد نے کہی۔ وہ آئی پی ایس کی نیشنل اکیڈمک کونسل کے سالانہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ یہ اجلاس 8 اگست 2015ء کو اسلام آباد میں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان آج کل کمزور طرزِ حکمرانی نیز اداراتی اور اخلاقی بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے اور ان سب کی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے مسائل کے مستقل اور پائیدار حل کی طرف توجہ دینے اور دیرپا منصوبہ بندی کرنے کے بجائے مسائل کے وقتی اور عارضی حل پر ہی توجہ مرکوز رکھتے ہیں اور وقت گزارنے کے لیے فوری اقدامات کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ درپیش سنگین چیلنجوں کے باوجود ہمیں کبھی بھی امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اور اپنی توجہ ان چیلنجوں کے پیچھے چھُپے مواقع کو تلاش کرنے اور ان کا بھرپور استعمال کرنے پر مرکوز کرنی چاہیے۔ انہوں نے اپنی بات کی وضاحت کے لیے 68سال پہلے قیام پاکستان کے واقعہ کی مثال دی جب بہت ہی ناموافق اور نامساعد حالات ہونے کے باوجود قیام پاکستان کا عظیم مقصد حاصل کیا گیا۔

اس موقع پر جن دیگر اہم شرکاء نے اظہارِ خیال کیا ان میں سابق سفیر رستم شاہ مہمند، سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان، سابق چیف اکانومسٹ حکومت پاکستان فصیح الدین، سابق سیکرٹری بجلی و پانی مرزا حامد حسن، سابق ایڈیشنل سیکرٹری ایم ریاض الحق، ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز پشاور یونیورسٹی ڈاکٹر عدنان سرور خان، وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی پشاور ڈاکٹر ظہور احمد سواتی، ریکٹریونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور ڈاکٹر حسن صہیب مراد، رکن وفاق المدارس عربیہ پاکستان مولانا زاہد الراشدی، سابق چیئرمین اکادمی ادبیات عبدالحمید، سابق چیئرمین راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری امان اللہ خان اور ڈائریکٹر جنرل آئی پی ایس خالد رحمن، شامل تھے۔ نیز مفتی منیب الرحمن کے شرکت نہ کرسکنے کے باعث ان کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا۔

واضح رہے کہ انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کی نیشنل اکیڈمک کونسل وہ ادارہ ہے جو انسٹی ٹیوٹ کی علمی اور تحقیقی سرگرمیوں کا جائزہ لیتا ہے اور علمی کام میں رہنمائی کا فریضہ انجام دیتا ہے۔ اس میں پورے ملک سے اہلِ علم، تحقیق کار، سول سرونٹس، جامعات کے سینئر عہدیداران اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے پیشہ ورانہ ماہرین شامل ہیں۔

Share this post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے