قومی بجٹ کسی بڑے معاشی اُٹھان کے تصور سے خالی ہے۔ آئی پی ایس کا بجٹ سیمینار

pbudjet

قومی بجٹ کسی بڑے معاشی اُٹھان کے تصور سے خالی ہے۔ آئی پی ایس کا بجٹ سیمینار

 موجودہ بجٹ کے مطابق ملکی وسائل سے صرف پرانے قرضوں کی ادائیگی، دفاعی ضروریات کی تکمیل اور انتظامی مشینری کے اخراجات ہی پورے کیے جا سکتے ہیں۔ ملک کے باقی معاملات کو حسبِ معمول مزید قرضوں سے چلا یا جائے گا۔

ماہرین نے اس نقطۂ نظر کا اظہار وفاقی بجٹ 2015-16 پر منعقدہ ایک اجلاس میں کیا، جو انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز میں 9جون 2015ء کو منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت سابق چیف اکانومسٹ حکومت پاکستان فصیح الدین نے کی اور جس سے سابق سینیٹر اور چیئرمین انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد پروفیسر خورشید احمد، سابق سیکرٹری وزارت پانی و بجلی مرزا حامد حسن، ماہرمحاصل ملک محمد عرفان، رفاہ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک پالیسی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر راشد آفتاب، ڈائریکٹر جنرل آئی پی ایس خالد رحمن اور دیگر ماہرین نے خطاب کیا۔

انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے چیئرمین اور ماہر اقتصادیات پروفیسر خورشید احمد نے کہا کہ بجٹ سے قبل بزنس کمیونٹی کے ساتھ نشستیں اور پارلیمنٹ کی فنانس کمیٹی کی میٹنگز کرنے کے باوجود افسوس ناک بات یہ ہے کہ یہاں پیش کی گئی 80 فی صد سفارشات کو پیش نظر نہیں رکھا گیا۔ انہوں نے بجٹ میں نظرانداز کیے گئے دیگر امور کی طرف بھی توجہ دلائی جن میں زراعت، بے روزگاری، بڑے پیمانے کی صنعتیں، چھوٹی اور درمیانی صنعتیں، افراطِ زر، قیمتوں میں کمی اور لوگوں کو ریلیف فراہم کرنا شامل ہیں۔

بجٹ میں ٹیکس کے بارے میں کیے گئے اقدامات پر اظہار خیال کرتے ہوئے پروفیسر خورشید نے کہا کہ حکومت ٹیکس نیٹ کے پھیلائو میں اضافہ کرکے ٹیکس نہ دینے والے افراد کو اس میں لانے کے بارے میں مخلص دکھائی نہیں دیتی۔ اس کے بجائے حکومت کی پالیسیاں پہلے سے ٹیکس دینے والے افراد پر ہی مزید بوجھ لادنے کا ذریعہ بن رہی ہیں۔

انہوں نے اپنی دلیل کو ہائوس ہولڈ انکم سروے کی مثال سے واضح کیا، جس کے مطابق ملک میں تقریباً 50لاکھ افراد ایسے ہیں جن کی سالانہ آمدنی 15لاکھ روپے سے زائد ہے، جبکہ ٹیکس دینے والوں کی تعداد محض 8 لاکھ ہے۔انہوں نے سابق وزیرخزانہ حفیظ شیخ کے بیان کا حوالہ بھی دیا، جس کے مطابق حکومت کے پاس ایسے 38لاکھ سے زائد افراد کی فہرست موجود ہے جو کروڑپتی (ملینر) ہیں اور ٹیکس ادا کرنے والوں میں شامل نہیں ہیں۔

سینئر اقتصادی ماہر پروفیسر خورشید نے اس بات پر شدید دکھ کا اظہار کیا کہ پاکستان پر قرضوں کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے جبکہ غیرملکی قرضوں پر انحصار میں کمی لانا حکومت کی اقتصادی منصوبہ بندی کا اہم حصہ ہونا چاہیے تھا۔

وفاقی بجٹ 2015-16 پر اپنا تجزیہ پیش کرتے ہوئے فصیح الدین نے کہا کہ اگرچہ حکومت کی کارگردگی پچھلے سال سے قدرے بہتر ہے تاہم جن چیزوں کاوعدہ کیا گیا تھا ان کا دور دور تک نشان نہیں ملتا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ماسوائے افراطِ زر کے باقی تمام اہم اہداف حاصل ہونے سے رہ گئے ہیں۔‘‘

تجزیہ کار نے بجٹ کو معاشی، سماجی اور طرزِ حکمرانی کے پس منظر میں پرکھتے ہوئے مختلف نوعیت کے ٹیکسوں میں اضافے اور سبسڈی میں کمی پر سوال اٹھاتے ہوئے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا کہ اس کے افراط زر پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے جس کی زد میں زیادہ تر وہ لوگ آئیں گے جن کے ذرائع آمدنی محدود ہیں۔

انہوں نے افسوس کا اظہا کرتے ہوئے کہا کہ 2015-16 کے لیے حکومت کے طے کردہ اہداف بہت معمولی نوعیت کے ہیں جس سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ حکومت کو اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ کسی بڑے معاشی اٹھان کے لیے بھرپور کوشش کی جائے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حد یہ ہے کہ ان اہداف کو حاصل کرنے کے لیے کسی پالیسی فریم ورک یا روڈ میپ کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔

مقررین کی مجموعی رائے یہ تھی کہ بجٹ عمومی طور پر کسی بھی طویل مدتی بصیرت افروز پہلو سے مبرا نظر آتا ہے۔ ان کے نزدیک اس دستاویز میں کسی بڑی معاشی سرگرمی کا آغاز کرنے اور مجموعی ترقی کو فروغ دینے کے لیے تخلیقی نقطۂ نظر کا فقدان ہے۔
مرزا حامد حسن نے بجٹ کو نصف بھرے ہوئے گلاس کے طور پر دیکھنے کو قابلِ ترجیح قرار دیا اور کہا کہ یہ بجٹ نہ تو امیر پرور ہے اور نہ غریب پرور، بلکہ کسی حد تک درمیانی نوعیت کا ہے جس میں محدود ذرائع فراہم کیے گئے ہیں تاکہ ارباب اختیار ان کے ذریعے مملکت کے امور سرانجام دے سکیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے توانائی کے شعبے کو اہم ترین ترجیحات میں رکھا ہے۔ انہوں نے توانائی کے شعبے میں ترجیحات کو پانی اور شمسی توانائی کی سمت موڑنے کو ایک خوش آئند تبدیلی قرار دیا۔ تاہم انہوں نے اس بات پر تعجب اور شک کا اظہار کیا کہ داسو ڈیم اور دیامربھاشا ڈیم جیسے بہت بڑے منصوبے اکٹھے شروع کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے محدود معاشی ذرائع کو سامنے رکھتے ہوئے اس طرح کے کسی ایک منصوبے کو یکسوئی کے ساتھ پایۂ تکمیل تک پہنچا لینا بہتر حکمتِ عملی ہو سکتی تھی۔

مرزا حامد حسن نے ملک میں بجلی کی ترسیل کی استعداد پر بھی بات کی اور کہا کہ چونکہ حکومت جانتی ہے کہ بجلی کی پیداوار کے منصوبے اس وقت تک بے فائدہ ہیں جب تک اس کی ترسیل کا مناسب نظام موجود نہ ہو۔ چنانچہ اب یہ حقیقی طور پر محسوس کیا جانے لگا ہے کہ بجلی کی ترسیل کے موجودہ نظام کو بہتر بنانا بھی بجلی کی پیداوار بڑھانے جیسا ہی اہم کام ہے۔ انہوں نے بجلی کی چوری روکنے اور سرکلر ڈیٹ کے مسئلہ کو حل کرنے کی طرف بھی متوجہ کیا۔

ماہرین نے بجلی کی سبسڈی میں کمی کرنے پر بھی اظہار خیال کیا، جو 47% کم کر دی گئی ہے اور 222 بلین روپے سے کم ہو کر 118 بلین روپے ہو گئی ہے۔ ان کے خیال میں اس اقدام سے ملک کی صنعت، زراعت اور بالآخر ہر گھرانے پر بہت منفی اثرات ظاہر ہوں گے۔ ایک عام صارف کو بجلی کے بلوں میں اضافہ کے ساتھ ساتھ اشیاء کی لاگت میں اضافے کی وجہ سے مزید مہنگائی بھی برداشت کرنا پڑے گی۔
ماہرین کے پینل کے ارکان اس بات پر متفق تھے کہ فیڈرل بجٹ میں پبلک سیکٹر ترقیاتی پروگرام کا حصہ نہ صرف کم ہے بلکہ جو ہے وہ بھی اسٹرکچر کے لیے مخصوص ہے، اس لحاظ سے صحت اور تعلیم کا حصہ گزشتہ برس کے بجٹ کے مقابلہ میں بھی کم ہے۔ انہوں نے کسی وژن کے بغیر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو جاری رکھنے پر شدید تنقید کی اور اسے ’’زنگ آلود‘‘ سوچ کا شاخسانہ قرار دیا۔

اس پروگرام پر بہت بڑی رقم صرف ہو رہی ہے اور اس کے نظر آنے والے فائدے بالکل بھی نہیں ہیں۔ ایک ماہر کے بقول ’’ایسے پروگراموں کا مقصد لوگوں کو خودانحصاری کی منزل سے ہم کنار کرنا ہونا چاہیے نہ کہ انہیں مستقلاً اس پر انحصار کرنے والا بنا دیا جائے۔‘‘

Share this post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے