مقامی سطح پر تلاش کیے گئےحل اور غیر ملکی کرداروں کی عدم مداخلت سے سوڈان کا بحران ختم ہو سکتا ہے: سوڈانی سفیر

مقامی سطح پر تلاش کیے گئےحل اور غیر ملکی کرداروں کی عدم مداخلت سے سوڈان کا بحران ختم ہو سکتا ہے: سوڈانی سفیر

اگرسوڈان میں بیرونی ممالک کی عدم مداخلت کو یقینی بنایا جائے اور عوام کو انتخاب کا حق دیا جائےتوجمہوریت کی پرامن منتقلی  کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں سوڈان کےسفیر صالح محمد احمد محمد صدیق نےاس کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ سوڈانی موجودہ تنازعہ جیسے مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ اس کی کوئی نسلی جہت بھی نہیں ہے۔

وہ ۳ مئی ۲۰۲۳  کو انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس) کے زیر اہتمام ایک ہائبرڈ سیمینار سے خطاب کر رہے تھے جس کا عنوان تھا ”سوڈان میں بحران: ملک اور خطے کے لیے مضمرات“۔

ہائبرڈ سیمینار کی نظامت ڈاکٹر طغرل یامین نے کی جبکہ سمیع حامدی الحاچیمی، منیجنگ ڈائریکٹر، دی انٹرنیشنل انٹرسٹ یو کے اور مینا (ایم ای این اے) کے ماہرنے کلیدی مقرر کی حیثیت سےخطاب کیا۔ دیگر مقررین میں ایمبیسیڈر(ر) عمران یاور، ایمبیسیڈر(ر) منظور الحق،  ایمبیسیڈر(ر) سید ابرارحسین، وائس چیئرمین، آئی پی ایس، اور ڈاکٹر فخر الاسلام، ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ اکیڈمک آؤٹ ریچ، آئی پی ایس شامل تھے۔

صالح محمد احمد نے خبردار کیا کہ بحران نہ صرف جمہوری منتقلی کے کسی بھی امکان کے لیے بلکہ خطے میں استحکام اور امن کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔ انہوں نے ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے باغیانہ اقدامات ، غیر مسلح شہریوں کے خلاف کاروائیوں اوران کی طرف سے بین الاقوامی اصول و ضوابط اور قوانین کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ صورت حال کے پیش نظر، سوڈان کی مسلح افواج نے ایک حکمتِ عملی اپنائی ہے جو بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کے مطابق طاقت کے محدود اور ذمہ دارانہ استعمال کی اجازت دیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تشدد ملک اور خطے میں ایک انسانی بحران پیدا کر رہا ہے اور اس سے نقل مکانی، غیر قانونی امیگریشن، بین الاقوامی  سطح پرمنظم جرائم وغیرہ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس مسئلے کو فوری طور پر حل کیا جانا چاہیے کیونکہ اس کے بڑھنے سےطویل مدتی علاقائی اور بین الاقوامی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ ایمبیسیڈر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ جمہوری تبدیلی کا مقصدپانے کےلیے انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کرے اور اس کے لیےا مداد فراہم کرے۔

سمیع حامدی نے کہا بحران پر بیانیوں  کا تذکرہ کرتے ہوئےکہا کہ ۲۰۱۹ میں صدر عمر البشیر کی معزولی کے بعد کی سیاسی منتقلی جمہوری نہیں تھی، بلکہ گفت و شنید کے ذریعے ہوئی تھی۔ اس کا نتیجہ انتخابات میں تاخیر اور بین الاقوامی برادری کی طرف سے عائد پابندیوں کی وجہ سے نظریاتی تبدیلیوں کی صورت میں نکلا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بین الاقوامی طاقتیں اس خوف کی وجہ سے کہ سوڈانی ”غلط لوگوں“ کا انتخاب کر سکتے ہیں، انتخابات کے ذریعےمنتقلی کی حمایت کے لیے تیار نہیں ہیں۔

سمیع حامدی نے اس بات پر زور دیا کہ صرف انتخابات کے ذریعے ملنے والا جمہوری مینڈیٹ ہی سوڈان کو بین الاقوامی کرداروں کی طرف سے کی جانے والی سوشل انجینئرنگ مداخلتوں سےآزاد کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سوڈانیوں کو مقامی طور پر جمہوری منتقلی کو بحال کرنا چاہیے۔

ایمبیسیڈر (ر)عمران یاور نے کہا  کہ اس بحران کے جغرافیائی، سیاسی اور جیوسٹریٹیجک پہلو بھی ہیں کیونکہ بعض غیر ملکی ریاستوں کے ملک میں اپنے مفادات ہیں، خاص طور پر بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی اہمیت کے باعث ایک مستحکم اور جمہوری سوڈان بین الاقوامی برادری کے مفاد میں ہے۔ البتہ، جب تک بیرونی ممالک مداخلت نہ کرنے پر راضی نہیں ہوتے، امن کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے افریقی مسائل کے مقامی حل کی حمایت کی اور اس بات کا اعادہ کیا کہ افریقی ریاستوں کوچاہیے کہ وہ بین الاقوامی کرداروں کو اپنے تنازعات حل کرنے کا موقع  نہ دیں۔

ڈاکٹر فخر الاسلام نے سوڈان کے اسلامی تشخص کو اجاگر کرتے ہوئے متحارب فریقین کے درمیان مفاہمت پر زور دیا۔اس گفتگو میں مزید اضافہ کرتے ہوئے ایمبیسیڈر (ر)منظور الحق نے کہا کہ سوڈانی اس مسئلے کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ملک کا ایک سیاسی مزاج ہے اوروہ جمہوری حکمرانی کی صلاحیت بھی رکھتےہیں۔ اگر لوگوں کو انتخاب کا حق دیا جاتا ہے، تو وہ پرامن طریقے سے منتقلی کا عمل مکمل کر سکتے ہیں۔ اس لیے تمام علاقائی ریاستوں کو جنگ بندی تک پہنچنے اور سوڈان میں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

ایمبیسیڈر (ر) ابرار حسین نے گفتگو کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ یہ سوڈان کے عوام پر منحصر ہے کہ وہ اپنے مفادات کے لیے جسےچاہیں منتخب کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری کو سوڈانیوں کے مقامی فیصلے کی حمایت کرنی چاہیے اور اس میں کسی بھی طرح کی مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

Share this post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے