سرمایہ داری کا حالیہ بحران

سرمایہ داری کا حالیہ بحران

تسلسل کے ساتھ بڑھتی عالمی کساد بازاری اوروال اسٹریٹ پر قبضہ کی مہم کے پس منظر میں عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے حالیہ بحران، اس کے مضمرات اورمستقبل کی صورت گری کے حوالہ سے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے زیر اہتمام "سرمایہ داری کا حالیہ بحران” کے عنوان سے ۲۸ دسمبر۲۰۱۱ء کو ایک سیمینار منعقد ہوا، جس میں نامور ماہرین معاشیات نے اظہارِ خیال کیا۔ ممتاز ماہرِ معاشیات پروفیسر خورشید احمد کی زیرِ صدارت ہونے والے اس سیمینار میںپاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے سابق ڈائریکٹر اورجامعہ اردو اسلام آباد کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر نواب حیدر نقوی، فاسٹ نیشنل یونیورسٹی لاہور کے استاد ڈاکٹر ظفر اقبال اورپاکستان کے سابق چیف اکانومسٹ جناب فصیح الدین نے خطاب کیا۔
مقررین نے کہا کہ سرمایہ دارانہ معیشت میں چند برسوں کے وقفہ کے ساتھ بار بار کساد بازاری کے بحران آتے رہے ہیں۔ اس لیے موجودہ بحران کو بھی شروع میں ماضی کی طرح معمول کا بحران سمجھا گیا تاہم یہ بحران گہراہوتا گیا اوراب ماہرین اسے معاشی صورتِ حال کے معمولی نقص کے طور پر نہیں بلکہ پورے نظامِ سرمایہ داری کے گہرے بحران کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

 

"تاریخ کے اختتام”  اورمعیشت کے میدان میں لبرل معیشت کی صورت میں انسان کی معراج اورمعیاری منزل کو پالینے کے دعوئوں کے کچھ ہی عرصے بعد اب ایک بڑا بحران دنیا کے سامنے ہے۔ یہ صرف معیشت کا نہیں بلکہ تہذیب کا بحران ہے، اوریہ بحران چھوٹی موٹی تبدیلیوں سے حل ہونے والا نہیں بلکہ بڑی سطح پر سوچ کی تبدیلی ہی اس کا حل ہے۔
بحران کے عوامل کا ذکر کرتے ہوئے ماہرین نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے نتیجے میں ہونے والی بیروزگاری، دولت کی غیر منصفانہ تقسیم، آزاد معیشت کے نام پر ناجائز منافع خوری، ترقی کے مواقع میں عدم مساوات ، پبلک سیکٹر کو نظر انداز کرنا، مصنوعی معیشت کا فروغ اورہر سطح پر بد انتظامی حالیہ بحران کے چند بڑے اورظاہری اسباب ہیں۔
سرمایہ داری نظام کی فلسفیانہ بنیادوں پرگفتگو کرتے ہوئے ماہرین معیشت نے کہا کہ حرص و لالچ اوربلاروک ٹوک زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کا جذبہ نظامِ سرمایہ داری میں اصل قوتِ محرکہ ہے۔ اس سوچ نے نہ صرف امیر اورغریب کے درمیان فرق میں اضافہ کیا ہے اوران کے درمیان نفرت کے بیج بودیے ہیں بلکہ ” معیشت کی نشوونما ” کے نام پر ایسی پالیسیوں کوفروغ دیا ہے جو صرف امیروں کے حق میں ہیں۔دولت اوراس کی مختلف شکلوں کا باہمی لین دین جو مصنوعی معیشت ہے اورسرمایہ داروں کے نفع کمانے کا حربہ ہے، خوب فروغ پذیر ہے۔ جس کے نتیجے میں مڈل کلاس مسلسل معاشی نقصان سے دوچار ہے اورحکومت سرمایہ کاروں ہی کی سرپرستی کرتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سرمایہ دارانہ معیشت جو کہ ” آزاد منڈی” اور ” آزاد معیشت” کے نام پر حکومت پر غریبوں کے حق میں پالیسیاں بنانے میں رکاوٹ ڈالتی ہے، جب اُس پر مشکل وقت آتا ہے تو حکومت ہی کو مداخلت کے لیے بلاتی ہے۔امیرلوگوں کے حق میں حکومتی پالیسیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ماہرین نے یاد دلایا کہ امریکہ کی حکومت نے ۷۶۰ ملین ڈالر کا بیل آئوٹ پیکج بنکوں کا قرضہ ادا نہ کرسکنے والے اورممکنہ طورپر بے گھر ہوجانے والے بیس لاکھ شہریوں کونہیں بلکہ بنکو ں کو دیا جو دراصل اس بحران کے پیدا کرنے والے تھے

ماہرین نے کہا کہ معاشی عدمِ مساوات کا ایک اوراہم پہلو یہ ہے کہ جمہوری نظام میں عام افراد اپنے جائز حصے اورپالیسی فیصلوں میں درست فیصلے کروانے سے محروم رہتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام انتخابات پر اثر انداز ہوتاہے اورسرمایہ دار اپنے سرمائے کی طاقت سے عوامی نمائندوں سے اپنی مرضی اورمفاد کے فیصلے کرواتے ہیں۔ حالانکہ اخلاق اورتہذیب کا تقاضا یہ ہے کہ سرمائے  کو کبھی بھی اتنا طاقت ور نہیں ہونے دینا چاہیے کہ وہ نظامِ حکومت ہی کو یرغمال بنالے۔
نظام سرمایہ داری کی سب سے بڑی اوربنیادی ناکامی یہ ہے کہ اس نے معیشت اوراخلاق کا باہمی تعلق ختم کرکے رکھ دیاہے۔ اس پہلو کو عالمی سطح کے بہت سے ماہرینِ معیشت اوراداروں نے اجاگر کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ ” لالچ اوردولت سے غیر معمولی محبت کے منفی انسانی جذبات اورحکومتوں کی عوامی مفاد کے معاملات سے بے نیازی کی پالیسیوں پر مبنی نظامِ سرمایہ داری کبھی بھی عام شہریوں کے مفاد کے لیے بروئے کار نہیں آسکتا۔”
ماہرین نے کہا کہ معاشی عدمِ مساوات کا ایک اوراہم پہلو یہ ہے کہ جمہوری نظام میں عام افراد اپنے جائز حصے اورپالیسی فیصلوں میں درست فیصلے کروانے سے محروم رہتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام انتخابات پر اثر انداز ہوتاہے اورسرمایہ دار اپنے سرمائے کی طاقت سے عوامی نمائندوں سے اپنی مرضی اورمفاد کے فیصلے کرواتے ہیں۔ حالانکہ اخلاق اورتہذیب کا تقاضا یہ ہے کہ سرمائے  کو کبھی بھی اتنا طاقت ور نہیں ہونے دینا چاہیے کہ وہ نظامِ حکومت ہی کو یرغمال بنالے۔

 

 

ماہرین نے تجویز کیا کہ ایک متبادل نظامِ فکر اورسوچ کو فروغ دیا جائے جس میں عالمی سطح پر سماجی انصاف اورحکومت اورمنڈی کے متوازن کردار کے پہلوئوں پر زور دیا گیا ہو۔ مسلم دنیا کو اس مرحلہ پر اپنے نظریے اورعملی رویے سے دنیا کے سامنے مثال بن کر ابھرنا ہوگا۔ اپنی خامیوں اورکمزوریوں کو دور کرنے اورسخت محنت کے ساتھ اسی سماجی انصاف والے نظام کو سامنے لانا ہوگا جس پرمسلمان ریاستیں صدیوں تک عمل کرتی رہی ہیں اوردنیا میں بالادست اورباوقار رہی ہیں۔
نظریاتی پہلو سے نظامِ سرمایہ داری پر تنقید کرتے ہوئے ماہرین نے کہا کہ  حالیہ بحران دراصل معاشیات سے پانچ نوعیت کے تعلقات کی کمزوری یا انقطاع کی وجہ سے ظہور پذیر ہوا ہے۔
سب سے پہلا اور اہم سبب معاشیات اور اخلاقیات کا تعلق ختم ہونا ہے۔معاشیات سے اخلاقیات کا تعلق ٹوٹنا ہی اصل میں سرمایہ داری کے بحران کا سب سے بڑا سبب ہے۔ معاشی دولت کو اخلاقی اقدار سے غیر منسلک اور بے تعلق کردیا جائے تو پھر خود غرضی اور لوٹ کھسوٹ سے بچنا ممکن نہیں ہے۔
معاشیات اور اس کا دیگر شعبہ ہائے علوم سے تعلق ختم ہونا ایک دوسرا سبب ہے۔ سیاسیات ، سماجیات، نفسیات اوردیگر انسانی علوم کو آج کی معاشیات کوئی اہمیت نہیں دیتی اورانہیں اپنے ماتحت دیکھنا چاہتی ہے، اوراپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی حد تک دلچسپی رکھتی ہے۔
تیسرا اہم سبب معاشیات کا معاشرے سے تعلق ختم ہو نا ہے۔ معاشرہ معاشیات کی فکر میں ایسا لگا کہ معاشیات ہی کا ہو کر رہ گیا اور معاشیات نے اپنے آپ کو مارکیٹ تک محدود کرلیا۔ وسعتِ نظر کی یہ کمی بہت سے سماجی مسائل کی جڑ ہے۔
چوتھا اہم سبب معیارزندگی اور معاشی مساوات میں عدمِ توازن ہے۔ بہتر معیار زندگی اور بہتر استعداد کار کا حصول ناپسندیدہ نہیں لیکن اگر اس دوڑ میں کم تر معیار زندگی رکھنے والے انسانوں کو کچلتے ہوئے آگے بڑھنے کا روّیہ رکھا جائے تو یہ سسٹم کی ناکامی ہی کہی جائے گی۔

 

نظامِ سرمایہ داری کی ناکامی کا پانچواں اہم سبب دولت کی معاشیات اور حقیقی و طبعی معاشیات میں فرق کا بہت بڑھ جانا ہے۔ معاشیات کا سادہ سا اصول تو یہ ہے کہ اشیاء سے دولت آتی ہے اور پھر اس دولت سے مزید اشیاء پیدا کی جاتی ہیں۔ اشیاء ہی دراصل معاشرے کی اصل دولت اور فائدہ کی چیزہے۔ لیکن اگر دولت سے کوئی شے تو پیدا نہ ہو بلکہ اس سے مصنوعی طور پر مزید دولت پیدا کی جاتی رہے تو اس سے انسانیت کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ سود، بنکنگ سسٹم، اور دیگر مالیاتی ادارے اور مصنوعی دولت پیدا کرنے والے قاعدے اور طریقے امیروں کو اور بھی زیادہ امیر بنانے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ امریکہ میں حقیقی اور طبعی دولت کے مقابلہ میں مصنوعی مالیاتی معیشت 50گنا بڑی ہے۔ یہ معاشی بحران کی ایک خوف ناک صورت حال ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سرمایہ داروں کے پیدا کردہ مسائل سے متاثر تو عام آدمی ہوتا ہے، لیکن حکومت ان مسائل کو پیدا کرنے کے ذمہ دار بنکوں کو بیل آئوٹ پیکج دیتی ہے۔ صورتِ حال یہ  ہوگئی ہے کہ اب خود سرمایہ داری کی جنت امریکہ میں 17% آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے اور بے روزگاری کا تناسب 8% سے زیادہ ہوگیا ہے۔
سیمینار میں سابق سفارت کار، دفاعی اورسیاسی تجزیہ نگار، اسلام آباد کی مختلف یونیورسٹیوںکے اساتذہ  اور طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔سیمینار کے آخر میں ڈائریکٹر جنرل آئی پی ایس خالد رحمن نے مہمانوں اورشرکاء کا شکریہ اداکیا۔

نوعیت: روداد  سیمینار
تاریخ: ۲۸دسمبر۲۰۱۱ ء

Share this post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے