افغانستان میں داعش کی موجودگی اور پاکستان میں افغان مہاجرین

isist

افغانستان میں داعش کی موجودگی اور پاکستان میں افغان مہاجرین

 افغانستان میں استحکام، پاکستان اور پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے انتہائی اہم ہے۔
اس پس منظرکے ساتھ ایک خصوصی نشست کااہتمام انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد میں کیا گیا تاکہ افغانستان میں ابھرتے ہوئے نئے منظر نامے اور پاکستان سے متعلقہ بعض پہلوئوں پر افغانستان کے نقطۂ نظر کو سمجھا جاسکے۔

۱۹ فروری ۲۰۱۵ء کو ہونے والی اس نشست میں افغانستان کے سنٹر فار سٹریٹیجک اینڈ ریجنل سٹڈیز (CSRS)کے نصیر احمد نویدی اور کمال الدین کمال، سینئر آئی پی ایس ایسوسی ایٹ بریگیڈئر (ریٹائرڈ) سید نذیر ، سینئر آئی پی ایس ایسوسی ایٹ ڈاکٹر کمانڈر (ریٹائرڈ) اظہر احمد اور ڈائریکٹر جنرل آئی پی ایس خالد رحمن نے خطاب کیا۔

نصیر احمد نویدی نے افغانستان میں داعش کے ظہور سمیت وہاں کی زمینی صورت حال پر ایک تفصیلی نظر ڈالی اور داعش کو میڈیا کی طرف سے بڑھا چڑھا کر پیش کیے جانے والا عنصر قرار دیا۔ ان کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ افغانستان میں حالات داعش کے لیے سازگار نہیں ہیںما سواچند ایسے علاقوں کے جو قیاس آرائی پر مبنی اس خطرے کا شکار ہوسکتے ہیں۔

کمال الدین کمال نے پاکستان میں افغان مہاجرین کی صورت حال پر پر یزنیٹشن دی ۔ انہوں نے پاکستان میں دورانِ قیام افغان تارکین وطن کودرپیش مسائل اور پھراپنے آبائی وطن واپسی کے وقت پیش آنے والی دشواریوں پر افغان نقطۂ نظر پیش کیا۔
ڈائر یکٹر جنرل آئی پی ایس نے گفتگوسمیٹتے ہوئے کہاکہ افغان مہاجرین کے ساتھ بہت سے سیاسی، معاشی اور سکیورٹی  معاملات وابستہ ہیں چنانچہ ان کی وطن واپسی کاکوئی فوری حل ڈھونڈنے کے بجائے محتاط منصوبہ بندی اور قابل عمل طریق کار وضع کرنے کی ضرورت ہے۔

Share this post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے